رسائی کے لنکس

logo-print

شرجیل میمن کی درخواستِ ضمانت 21 ماہ بعد منظور


فائل فوٹو

سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اور رکن سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن کی درخواست ضمانت 21 ماہ بعد منظور کر لی ہے۔

شرجیل میمن اور دیگر کے خلاف محکمۂ اطلاعات کے فنڈز میں 5 ارب 78 کروڑ روپے سے زائد کے غبن کے الزام میں احتساب عدالت میں ریفرنس زیرِ سماعت ہے۔

عدالت نے اس سے قبل شرجیل میمن کی درخواستِ ضمانت دو بار مسترد کر دی تھی۔

شرجیل میمن کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری اور صحت کی بنیاد پر ضمانت دینے کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ان کے وکلا نے تیسری بار ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی۔

ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست ہائی کورٹ کی جانب سے رد ہونے پر اس کے خلاف دائر کی جانے والی اپیل کو سپریم کورٹ نے بھی رد کر دیا تھا۔

منگل کو ہائی کورٹ نے شرجیل میمن کی درخواست ضمانت پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے ملزم کو ضمانت پر رہائی کے عوض 50 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔ تاہم ضمانت پر ہونے کے باوجود انہیں بیرونِ ملک جانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

ریفرنس میں نامزد شرجیل میمن اور دیگر ملزمان کو 23 اکتوبر 2017ء کو ہائی کورٹ کے احاطے سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب عدالت نے ملزمان کی درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کر دی تھی۔

نیب کی جانب سے دائر ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شرجیل میمن نے بطور صوبائی وزیرِ اطلاعات ٹیلی ویژن چینلز اور ریڈیو اسٹیشنز کو انتہائی مہنگے داموں پر خلافِ قانون اشتہارات دیے جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

اسی کیس میں احتساب عدالت شرجیل میمن سمیت دیگر ملزمان پر گزشتہ سال 15 فروری کو فردِ جرم بھی عائد کر چکی ہے جس کے بعد گواہوں کے بیانات قلم بند کرنے کا سلسہ جاری ہے۔

دوسری جانب نیب نے کراچی میں رہائشی عمارتوں کو غیر قانونی طور پر کمرشل پراپرٹی میں تبدیل کرنے کے ایک کیس میں بھی شرجیل میمن کو گرفتار کرنے کی اجازت مانگی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا ہے۔

شرجیل میمن کے وکیل خالد جاوید ایڈوکیٹ نے منگل کو عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے 13 جون کو شرجیل میمن کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرنا بدنیتی پر مبنی ہے۔

وکیل کے مطابق ان کے مؤکل کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی انکوائری دسمبر 2018ء میں شروع کی گئی تھی لیکن جب درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ ہوا تو نیب نے ریمانڈ کے لیے احتساب عدالت رجوع کر لیا۔

بیرسٹر خالد جاوید کے مطابق شرجیل میمن کہیں نہیں جا رہے بلکہ وہ نیب سے انکوائری میں مکمل تعاون کریں گے۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر اور شرجیل میمن کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد ان کے وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے۔

واضح رہے کہ سندھ میں برسرِ اقتدار پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے کئی وزرا اور رہنما بدعنوانی اور غبن سے متعلق مختلف الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں اور ان میں سے کئی رہنما نیب کی تحویل میں ہیں۔

پی پی پی کا مؤقف ہے کہ اسے وفاقی حکومت سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہی ہے۔ لیکن تحریکِ انصاف کی قیادت میں قائم وفاقی حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG