رسائی کے لنکس

شرجیل انعام میمن کے علاوہ ریفرنس میں سابق سیکریٹری اطلاعات ذوالفقار شہلوانی, ڈپٹی ڈائریکٹر منصور راجپوت, سارنگ لطیف چانڈیو, الطاف حسین میمن, عاصم عامر سکندر اور دیگر بھی گرفتار شامل ہیں۔

محمد ثاقب

کراچی کی احتساب عدالت نے سابق وزیر اطلاعات اور رکن سندھ اسمبلی شرجیل انعام میمن کو جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

شرجیل انعام میمن سمیت بارہ ملزمان کو گزشتہ روز ضمانت منسوخی پر گرفتار کرلیا گیا تھا۔ ملزمان کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس زیر سماعت ہے۔

شرجیل میمن اور دیگر پر الزام ہے کہ انہوں نے اشتہارات کی مد میں قومی خزانے کو 5 ارب 76 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان پہنچایا۔

ملزمان کو سخت حفاظتی اقدامات میں احتساب عدالت پیش کیا گیا۔ دوران سماعت شرجیل انعام میمن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی ہے۔

عدالت نے ملزمان کو جیل میں بی کلاس اور طبی سہولیات کی فراہمی کی درخواستوں پر نوٹس جاری کردئیے۔

پیشی کے موقع پر پیپلز پارٹی کے اراکین اسمبلی سعید غنی، فیاض بھٹ, کلثوم چانڈیو اور دیگر بھی موجود تھے۔

شرجیل میمن نے سماعت کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انہیں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ایک جانب کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پیشی پر ضمانت دے دی گئی لیکن ہمیں گرفتار کرکے جیل بھیجا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب اپنا یہ دوہرا معیار ختم کرے۔

شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ ان پر لگائے گئے الزامات من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

شرجیل انعام میمن کے علاوہ ریفرنس میں سابق سیکریٹری اطلاعات ذوالفقار شہلوانی, ڈپٹی ڈائریکٹر منصور راجپوت, سارنگ لطیف چانڈیو, الطاف حسین میمن, عاصم عامر سکندر اور دیگر بھی گرفتار شامل ہیں۔

ملزمہ انیتا بلوچ اس کیس میں مفرور قرار دی جاچکی ہیں۔

عدالت نے تمام گرفتار ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دیتے ہوئے ریفرنس کی مزید سماعت 4 نومبر تک ملتوی کردی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG