رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت کا موجودہ بحران حکومت کا خود پیدا کردہ ہے: ششی تھرور


ششی تھرور کا کہنا ہے کہ پہلی بار ایک ایسا قانون بنایا گیا ہے جو شہریت کے لیے مذہب کو پیمانہ بناتا ہے۔

بھارت کی حزبِ اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگریس کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ششی تھرور نے کہا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔ اس لیے ہم نے اس کی مخالفت کی ہے۔

انہوں نے وائس آف امریکہ کی نمائندہ رتل جوشی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کے خلاف عام عوام احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسے لوگ بھی سراپا احتجاج ہیں جن کا سیاسی جماعتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ششی تھرور نے کہا کہ لوگ اپنے غصے اور جذبات کا اظہار کر رہے ہیں اور ہمیں ایسے لوگوں کی اخلاقی حمایت حاصل ہے۔

ان کے بقول، "جہاں تک کانگریس پارٹی کا تعلق ہے تو لوک سبھا میں شہریت ترمیمی ایکٹ کی زبردست مخالفت کی ہے۔ ہم اس بنیاد پر اس کی مخالفت کر رہے ہیں کہ یہ قانون آئین کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے۔"

کانگریس رہنما نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ نے شہریت کے لیے مذہب کو پیمانہ بنایا ہے۔ اس لیے یہ ہندوستان کے نظریے کے خلاف ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ آزادی کی جد و جہد نہ تو نظریاتی بنیاد پر تھی اور نہ ہی جغرافیائی بنیاد پر۔ بلکہ یہ ایک اصول کی بنیاد پر تھی۔ یہ سوال تھا کہ کیا قومیت کا تعین مذہب کی بنیاد پر ہوگا؟ جن لوگوں نے کہا کہ مذہب ان کی شناخت ہے اور وہ پاکستان بنانا چاہتے ہیں، انہوں نے الگ ملک بنایا اور وہ یہاں سے چلے گئے۔

'شہریت قانون ہندوستان کے نظریے کے خلاف ہے'
please wait

No media source currently available

0:00 0:04:38 0:00

ششی تھرور کے بقول، "مہاتما گاندھی سے لے کر سب نے کہا کہ ان کی جد و جہدِ آزادی سب کے لیے ہے اور وہ ملک کی تعمیر سب کے لیے کریں گے۔ ہندوستان کا جو آئین بنایا گیا اس میں اس بنیادی اصول کا عکس دیکھا جا سکتا ہے۔"

کانگریس رہنما نے کہا کہ پہلی بار ایک ایسا قانون بنایا گیا ہے جو شہریت کے لیے مذہب کو پیمانہ بناتا ہے۔ اس وقت جو بحران ہے وہ خود حکومت کا پیدا کردہ ہے۔ اس نے اس نیت کے ساتھ قانون بنایا کہ سیکولر ہندوستان کو ہندو اسٹیٹ بنایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ جس دن شہریت ترمیمی ایکٹ اسمبلی سے منظور ہوا تو وزیرِ داخلہ نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کہا کہ اس کے بعد شہریت کا قومی رجسٹر (این آر سی) تیار ہوگا۔ ان کے اس بیان پر فطری طور پر پورے ملک میں ایک اضطراب پیدا ہو گیا۔ کیونکہ جو ضابطے وضع کیے گئے ہیں ان کے مطابق ایسے سوال پوچھے جا رہے ہیں جو پہلے نہیں پوچھے گئے تھے۔

ششی تھرور کے مطابق لوگوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی پیدائش اور اپنے والدین کی پیدائش کی دستاویزات پیش کریں۔ ہندوستان جیسے ملک میں جہاں 65 فی صد عوام کے پاس دستاویزات نہیں ہیں آپ غریبوں سے یہ کیسے توقع کر سکتے ہیں کہ وہ دستاویزات پیش کر سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نئے قانون میں چھ مذاہب (ہندو، سکھ، جین، پارسی، عیسائی اور بودھ) کا استقبال کیا گیا ہے۔ ان سے شہریت ثابت کرنے کے لیے نہیں کہا جائے گا لیکن اگر آپ مسلمان ہیں تو شہریت ثابت کرنے کی ذمہ داری آپ پر عائد ہو گی۔

اُن کے بقول، "حکومت ایک طرف تو اپنے مقصد کی جانب بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف وہ ملک کو درپیش پچاس برسوں میں اب تک کی سب سے زیادہ بے روزگاری، برآمدات میں کمی، زرعی شعبے کی بدحالی اور کسانوں کی خود کشی جیسے سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔"

ششی تھرور نے کہا کہ اس وقت ملک میں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت معیشت کی ابتری پر بات نہیں کرتی۔ آج ہر شخص ہندو مسلم، سی اے اے، این پی آر، این آر سی، ملک کو تقسیم کرنے وغیرہ ایشوز پر ہی بات کر رہا ہے۔

"آج حکومت کے پاس عددی اکثریت ہے اور اس کے پاس ابھی چار سال ہیں لیکن عوام کی روز مرہ کی ضرورتوں پر توجہ دینا اس کی ذمہ داری ہے۔ اس پر توجہ دینے کے بجائے وہ امتیازی قوانین بنا رہی ہے۔"

اُن کے بقول، "شہریت ترمیمی ایکٹ کا معاملہ فی الحال سپریم کورٹ میں ہے۔ اگر عدالت نے محسوس کیا کہ یہ قانون آئین کی روح کے منافی ہے تو پھر یہ قانون کتابوں میں بند ہو کر رہ جائے گا۔"

ششی تھرور کا مزید کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ پر لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور احتجاج بھی ہو رہا ہے۔ اگر عوام کی مخالفت سے حکومت اپنے فیصلوں میں ناکام ہوئی تو یہ عوام کی بہت بڑی جیت ہو گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG