رسائی کے لنکس

logo-print

'یہ لو آزادی': دہلی میں شہریت قانون مخالف مظاہرین پر فائرنگ


بندوق بردار شخص سے کچھ ہی فاصلے پر پولیس اہلکار موجود ہیں۔

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جامعہ ملیہ یونی ورسٹی کے باہر شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے طلبہ پر ایک نامعلوم شخص نے فائرنگ کر دی ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق جمعرات کو فائرنگ کے بعد واقعے کے مقام پر افراتفری پھیل گئی اور فائرنگ سے یونی ورسٹی کا ایک طالب علم بھی زخمی ہو گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر واقعے کی ایک ویڈیو بھی گردش کر رہی ہے جس میں ایک شخص ہاتھ میں پستول پکڑے فائرنگ کرتے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ اس کے عقب میں کچھ ہی فاصلے پر پولیس اہلکار بھی کھڑے ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ سیاہ جیکٹ میں ملبوس بندوق بردار شخص نے فائرنگ کے ساتھ نعرے بازی بھی کی اور وہ مظاہرین کو کہتا رہا کہ "یہ لو آزادی۔"

واقعے کے بعد پولیس نے اس شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے فوری طور پر بندوق بردار شخص کو گرفتار کر لیا تھا۔

زخمی ہونے والے طالب علم کی شناخت شاداب کے نام سے کی گئی ہے جسے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ واقعے کے بعد علاقے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور پولیس نے رکاوٹیں لگا کر آس پاس کی سڑکوں کو بند کر دیا ہے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھارت میں کئی ہفتوں سے جاری شہریت قانون مخالف مظاہروں کے دوران اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ پیش آیا ہے۔

یاد رہے کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ برس کے آخر میں ہمسایہ ملک پاکستان، بنگلہ دیش اور افغانستان میں "ستائے گئے" غیر مسلم تارکینِ وطن کو بھارتی شہریت دینے کا قانون منظور کیا تھا۔

اس قانون کے خلاف بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ مسلمانوں کے خلاف ہے جس سے ملک کے بنیادی اصول سیکیولر ازم کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔

زخمی ہونے والے طالب علم کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
زخمی ہونے والے طالب علم کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

حالیہ دنوں میں نریندر مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ رہنماؤں نے کہا تھا کہ وہ شہریت قانون مخالف احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایکشن لیں گے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی جواہر لعل نہرو یونی ورسٹی کے طلبہ پر حملے کا ایک واقعہ پیش آ چکا ہے جب گزشتہ ماہ کچھ نقاب پوش افراد نے یونیورسٹی کی حدود میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کی تھی اور طلبہ پر تشدد کیا تھا۔ اس واقعے کی ذمہ داری ایک ہندو انتہا پسند تنظیم نے قبول کر لی تھی۔

بھارت میں اس واقعے کے بعد مظاہروں میں شدت آ گئی تھی اور طلبہ نے جے این یو میں حملے کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے کیے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG