رسائی کے لنکس

logo-print

جہاز رانی کی صنعت میں گرین انرجی کا استعمال،دس کھرب ڈالر کی ضرورت


مال بردار تجارتی جہاز، فائل فوتو

پیر کے روز جاری ہونے والی ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سن 2050 تک کاربن گیسوں کے اخراج میں کٹوتی سے متعلق اقوام متحدہ کے مقرر کردہ اہداف حاصل کرنے کے لیے جہاز رانی کی صنعت میں نئی ماحول دوست ٹیکنالوجی لانے پر کم ازکم 10 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔

اس وقت دنیا بھر میں پیدا ہونے والی کاربن گیسوں کے اخراج میں بحری جہازوں کا حصہ تقریباً سوا دو فی صد ہے۔ جب کہ دنیا بھر کی 90 فی صد تجارت سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے۔ جہاز رانی کی صنعت پر کاربن گیسوں کا اخراج کم کرنے کے لیے شدید دباؤ ہے۔

کاربن گیسوں کے بڑے پیمانے پر اخراج سے کرہ ارض کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے جس سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں۔ سمندورں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔ موسموں کی شدت بڑھ رہی ہے۔ اگر کاربن گیسوں کے اخراج پر قابو نہ پایا گیا تو آنے والے عشروں میں کئی ایسے بحران جنم لے سکتے ہیں جن پر قابو پانا ممکن نہ ہو گا۔

اقوام متحدہ کے جہاز رانی سے متعلق تنظیم انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن آئی ایم او چاہتی ہے کہ اس شعبے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو 2008 کی سطح کے مقابلے میں 2050 تک 50 فی صد تک گھٹا دیا جائے۔ یہ ہدف حاصل کرنے کے ضروری ہے کہ بحری جہازوں میں تیز رفتاری کے ساتھ ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے جو کاربن گیسوں کا اخراج نہ کرتی ہو یا اخراج کی سطح بہت کم ہو۔

اس سلسلے میں کی جانے والے پہلے مطالعاتی جائزے سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ کاربن گیسوں کا اخراج گھٹانے کے لیے 2030 اور 2050 کے درمیان 10 کھرب ڈالر سے 14 کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہو گی۔ جو 20 سال کے عرصے میں سالانہ 50 ارب سے 70 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر 2050 تک تمام بحری جہازوں کو گرین انرجی پر منتقل کر دیا جائے تو اس کے بعد بھی اسے جاری رکھنے کے لیے اگلے 20 برسوں تک سالانہ 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہو گی۔

یونیورسٹی کالج لندن کے انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ایک ماہر ٹریسٹن سمتھ کہتے ہیں کہ ہمارے تجزیے میں یہ چیز سامنے آئی ہے کہ معدنی ایندھن کو کلی طور پر ختم کر کے نظام کو گرین انرجی میں تبدیل کرنے یا کاربن گیسوں کے اخراج میں نمایاں کمی کرنے کے لیے معدنی ایندھن کے استعمال میں جدیدیت لانے کے سلسلے میں اہم تبدیلیوں کی ضرورت ہو گی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری کا تقریباً 87 فی صد زمین پر قائم انفراسٹرکچر اور کم گیسیں پیدا کرنے والے ایندھن پر صرف ہو گا جب کہ باقی ماندہ 13 فی صد سرمایہ کاری بحری جہازوں کی مشینری اور اس پر نصب آلات پر کرنی پڑے گی، تاکہ جہازوں سے کاربن گیسوں کا اخراج زیادہ نہ ہو۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG