رسائی کے لنکس

گنگولی نے بھارتی کرکٹ کی تقدیر بدل دی: شعیب اختر


شعیب اختر (بائیں طرف) نے کلکتہ ٹیسٹ میں سوریو گنگولی (دائیں طرف) کو بولڈ کر دیا۔ فائل فوٹو

پاکستان کے سابق تیز بالر شعیب اختر نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر کے طور پر سابق بھارتی کپتان سوریو گنگولی کے انتخاب کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ گنگولی بھارت کے ایسے کپتان تھے جنہوں نے بھارتی کرکٹ کی تقدیر بدل کر رکھ دی۔

اپنے یوٹیوب چینل پر ایک خصوصی ویڈیو جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انڈین پریمیر لیگ میں وہ 'کلکتہ نائٹ رائیڈرز' ٹیم میں سوریو گنگولی کی کپتانی میں کھیل چکے ہیں اور اس دوران گنگولی کو کرکٹ میدان میں اور میدان سے باہر قریبی طور پر دیکھنے اور پرکھنے کا موقع ملا ہے۔

اُن کے بقول، ’’گنگولی بھارتی کرکٹ کے ایسے کپتان رہے ہیں جنہوں نے نہایت ایمانداری اور ذہانت سے ٹیم میں نئے کھلاڑیوں کو موقع دیا تھا۔‘‘

شعیب اختر نے کہا کہ انہیں 98-1997 سے قبل کبھی بھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ بھارت پاکستان کو ہرا سکتا ہے، کیونکہ بھارتی ٹیم میں حوصلہ اور صلاحیت موجود ہی نہیں تھی کہ وہ پاکستان کے خلاف فتح حاصل کر سکے۔

تاہم، انھوں نے کہا کہ گنگولی کے کپتان بننے کے بعد صورت حال یکسر تبدیل ہو گئی اور انہوں نے بہت سے نئے چہرے بھارتی ٹیم میں آتے دیکھے جن میں ہربھجن سنگھ، سہواگ، یوراج سنگھ، ظہیر خان، اشیش نہرہ اور گوتم گھمبیر جیسے کھلاڑی شامل ہیں۔ انہوں نے سچن ٹنڈلکر سے اوپن کرایا اور ان تمام کھلاڑیوں کے ساتھ خود لمبی شراکتیں بھی قائم کیں۔

شعیب کا کہنا تھا کہ 2004 میں بھارت نے پاکستان کا دورہ کیا تو گنگولی کی کپتانی کے باعث اس نے پاکستان کے خلاف سیریز جیتی۔

شعیب نے کہا کہ گنگولی اور عمران خان میں یہ قدر مشترک ہے کہ دونوں نئے ٹیلنٹ کو متعارف کرانے میں یقین رکھتے تھے۔

اُن کے بقول، ’’جس طرح عمران خان نے اپنی کپتانی کے دور میں وسیم اکرم، وقار یونس، مشتاق احمد، عاقب جاوید اور انضمام الحق کو موقع دیا جنہوں نے پاکستانی ٹیم کی کارکردگی کو انتہائی بلندی پر پہنچا دیا، اسی طرح سوریو گنگولی نے بھی نئے ٹیلنٹ کو متعارف کرا کے بھارتی ٹیم کو ایک وننگ کامبی نیشن میں تبدیل کر دیا۔‘‘

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ جب وہ بالنگ کراتے تھے تو گنگولی ان سے خوفزدہ رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تیز گیند کراتے ہوئے انہوں نے گنگولی کو بہت پریشان کیا۔ تاہم، یہ لوگوں کی خام خیالی ہے کہ وہ ان سے ڈر کر اچھا نہیں کھیل پاتے تھے۔

شعیب کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بھانپ لیا تھا کہ گنگولی کی کمزوری پل شاٹ کھیلنا یا ہک کرنا تھا۔ لہذا، انہوں نے وسیم اکرم کے مشورے پر گنگولی کو شارٹ پچ گیندیں کرائیں جنہیں آسانی سے کھیلنے میں وہ کامیاب نہیں ہوئے۔

شعیب کے مطابق، گنگولی کا کہنا تھا کہ اگر وہ شعیب اختر کے خلاف خود اوپن نہیں کریں گے تو ان کی ٹیم شعیب کا سامنا کیسے کرے گی۔ یوں انہوں نے نڈر ہو کر انہیں کھیلا۔

شعیب اختر نے کہا کہ اب گنگولی بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کے صدر بن گئے ہیں اور چونکہ انٹر نیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) میں بھارت کا اثر و رسوخ بہت زیادہ ہے، وہ یہ دیکھنا چاہیں گے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر کرکٹ کو بہتر بنانے کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ شعیب اختر 161.3کلو میٹر (100.2 میل) کی رفتار کے ساتھ کرکٹ کی تاریخ کے تیز ترین بالر مانے جاتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG