رسائی کے لنکس

logo-print

ریٹائرمنٹ کا مشورہ: شعیب ملک اور رمیز راجہ کے درمیان نوک جھونک


شعیب ملک کے پیغام میں 'ایموجی' کے استعمال سے قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ شاید شعیب ملک نے رمیز راجا کے مشورے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسے ہوا میں اڑا دیا ہے۔ (فائل فوٹو)

پاکستان کے سابق کرکٹر رمیز راجا کی جانب سے ریٹائرمنٹ کا مشورہ دیے جانے پر شعیب ملک نے اس پر اپنے ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

​سابق کرکٹر رمیز راجہ نے شعیب ملک اور محمد حفیظ کو باعزت طور پر ریٹائر ہونے کا مشورہ دیا تھا۔ رمیز کے اس مشورے پر شعیب ملک نے کہا ہے کہ اُنہیں بھی ریٹائر ہو جانا چاہیے۔

شعیب ملک نے اپنے ایک ٹوئٹ میں رمیز راجا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہم تینوں کیریئر کے اختتام پر ہیں تو کیوں نا ہم تینوں ہی 2022 میں عزت سے ریٹائر ہو جائیں۔

اپنے ٹوئٹر پیغام کے ساتھ انہوں نے ایک ایموجی بھی شیئر کیا ہے جو مزاح کی نشاندہی کرتا ہے۔

شعیب ملک کے پیغام میں 'ایموجی' کے استعمال سے قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ شاید شعیب ملک نے رمیز راجا کے مشورے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور اسے ہوا میں اڑا دیا ہے۔

تاہم رمیز راجہ نے شعیب ملک کی ٹوئٹ کے جواب میں کہا ہے کہ "میں کس چیز سے ریٹائر ہو جاؤں؟ پاکستان کرکٹ کے حوالے سے اپنے دلی جذبات کا مظاہرہ نہ کروں؟

انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاؤں سے لے کر گردن تک کرکٹ کے شیدائی ہیں لیکن ذہن میں اس حوالے سے کوئی بوجھ نہیں رکھنا چاہتے۔ توقع ہے کہ ملک صاحب (شعیب ملک) جلد کرکٹ سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

شعیب ملک اور رمیز راجہ کی لفظی نوک جھونک کے ساتھ ساتھ کرکٹ شائقین اور شعیب ملک کے پرستار بھی اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں۔

ایک صارف عرفہ فیروز کا کہنا ہے کہ ایک کرکٹر اپنے خون کے آخری قطرے تک اپنے وطن کی خدمت کرتا ہے۔ عمر صرف سالوں کا شمار ہے شعیب ملک واقعی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ایک اور صارف فاروق اکبر خان نے شعیب ملک کی جانب سے آئی پی ایل سیزن فائیو میں اچھی کرکٹ کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعیب ملک کو ریٹائر نہیں ہونا چاہیے۔

اس بحث کے دوران کچھ صارفین نے رمیز راجہ کے خیال پر غصے کا بھی اظہار کیا جب کہ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ صارفین کا ملا جلا ردِ عمل نظر آتا ہے۔

کچھ صارفین نے رمیز راجہ پر تنقید بھی کی ہے:

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG