رسائی کے لنکس

کرونا کے دور میں پاکستانی ڈراموں کی شوٹنگ کیسے ہو رہی ہے؟


لگ بھگ تین ماہ بعد ٹی وی ڈراموںکی شوٹنگ کا آغاز ہوا ہے۔
لگ بھگ تین ماہ بعد ٹی وی ڈراموںکی شوٹنگ کا آغاز ہوا ہے۔

دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس کی وجہ سے زندگی کے بے شمار شعبے متاثر ہوئے ہیں جن میں تفریحی دنیا بھی شامل ہے۔ اس وبا کے سبب ٹی وی انڈسٹری نہ صرف سست روی کا شکار ہوئی بلکہ اب ڈراموں کی شوٹنگز کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔

کرونا کے سبب ڈراموں کی شوٹنگز کئی ماہ سے بند تھی تاہم مستقبل قریب میں اس وبا کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے لہذا کرونا کی موجودگی میں ہی ڈراموں کی شوٹنگز کا دوبارہ آغاز ہوگیا ہے۔

شوٹنگ کے دوران ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی چینلز ہوں یا پروڈکشن ہاؤسز ہر جگہ ایس او پیز اور سماجی دوری کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ ماسک اور سینیٹائزر کا استعمال بھی عام ہو گیا ہے۔ غیر متعلقہ شخص کو لوکیشن پر نہیں آنے دیا جا رہا جب کہ متعلقہ افراد کی تھرمل اسکیننگ بھی کی جا رہی ہے۔

پروڈکشن ہاؤسز کا کہنا ہے کہ ڈراموں کی شوٹنگز کا دوبارہ آغاز اس لیے بھی ضروری تھا کہ سیکڑوں افراد کی روزی اس سے وابستہ ہے۔

بدر محمود
بدر محمود

'کرونا وائرس نے کام کا طرز ہی بدل دیا ہے'

'اے آر وائی' چینل کے لیے 'بگ بینگ انٹرٹینمنٹ' کی پروڈکشن 'ڈنک' کی شوٹنگ بھی شروع ہو گئی ہے۔ اس کے ہدایت کار بدر محمود ہیں جو اس سے قبل 'ایسی ہے تنہائی'، 'بلا' اور 'چیخ' جیسے سپر ہٹ ڈرامے ڈائریکٹ کرچکے ہیں.

بدر محمود سجھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی وجہ سے نہ صرف کام متاثر ہوا بلکہ کام کرنے کا طریقہ بھی بدل گیا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بدر محمود کا کہنا تھا کہ ڈراموں کی شوٹنگ کو پرانی طرز پر واپس آنے میں بہت وقت لگے گا۔ بنگلوں اور دیگر لوکیشنز پر شوٹنگ کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔ اب مالکان زیادہ کرایہ مانگتے ہیں۔ کاسٹ کا احتیاطی تدابیر کے سبب زیادہ خیال رکھنا پڑرہا ہے حتیٰ کہ اس غرض سے کہیں دو تو کہیں تین میک اپ رومز بنانا پڑتے ہیں۔

بدر محمود نے بتایا کہ ڈراموں کی شوٹنگ تقریبا تین ماہ کے بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ ٹی وی انڈسٹری اور خاص طور سے چینلز کی بقا کا مسئلہ تھا ان کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں تھا۔ فن کاروں کے پاس بھی کام نہیں تھا وہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے تھے اس لیے کرونا وائرس کی موجودگی کے باوجود شوٹنگ دوبارہ شروع کرنا پڑی۔

ڈرامہ سیریل 'ڈنک' محسن علی نے تحریر کیا ہے جبکہ اس کے نمایاں فن کاروں میں بلال عباس خان، ثنا جاوید، نعمان اعجاز، شہود علوی، لیلیٰ واسطی، فہد شیخ، سلمیٰ حسن اور سیف حسن شامل ہیں۔

بلال عباس خان ہیرو کا رول ادا کر رہے ہیں۔ اس سے قبل بھی وہ بدر محمود کے کامیاب ڈراموں 'بلا ' اور 'چیخ' میں اپنی اداکاری سے سب کو متاثر کرچکے ہیں۔ ان دنوں ان کا ایک اور ڈرامہ 'پیار کے صدقے' نشر کیا جارہا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد ڈرامہ انڈسٹری کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کا واحد راستہ ہے اسی لیے دوبارہ شوٹنگز شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بلال عباس خان کا کہنا تھا کہ تمام پروڈکشن ہاؤسز محفوظ ماحول کی یقین دہانی کے بعد شوٹنگ کے سلسلے کو دوبارہ آگے بڑھا رہے ہیں ایسے میں اداکاروں کا فرض ہے کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد جاری رکھیں۔

محسن طلعت
محسن طلعت

'کوئی اور راستہ نہیں تھا'

ادھر 'ہم ٹی وی' کے ڈرامے 'جوگ' کی شوٹنگ بھی زور و شور سے جاری ہے۔ محسن طلعت کی ہدایات میں بننے والے اس ڈرامے میں سمیع خان اور سونیا حسین مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ کرونا کی وجہ سے مارچ میں اس ڈرامے کی شوٹنگ روک دی گئی تھی جو جون میں دوبارہ شروع ہوسکی۔

محسن کا کہنا ہے کہ ابتدا میں یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ وائرس کی وجہ سے شوٹنگ کو بریک لگ جائیں گے۔ چونکہ اسے عیدالاضحیٰ کے فوری بعد نشر ہونا ہے، اس لیے شوٹنگ دوبارہ شروع کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں تھا۔

انہوں نے وی او اے سے گفتگو میں کہا کہ اس بات کا ہر ممکن اہتمام کیا جا رہا ہے کہ تمام افراد نے ماسک اور دستانے پہنے ہوئے ہوں۔ اداکاروں کے پاس ہر وقت ٹشو پیپر اور ہینڈ سینیٹائزرز موجود ہوں، ہر فرد کا ٹمپریچر ریگولر چیک کیا جاتا ہے۔ ہر فرد کو ڈس انفیکٹ کرکے ہی سیٹ پر آنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

'حالات سے ہم آہنگ تو ہونا پڑے گا'

اداکار شہود علوی گزشتہ 20 سال سے ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ 90 کی وہائی میں 'کرن کہانی' کا ریمیک ہو یا مہرین جبار کا ڈرامہ 'وصل' شہود علوی نے ڈرامہ انڈسٹری میں آنے والے بہت سے اُتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ اس وقت وہ اے آر وائی کی ڈرامہ سیریل 'ڈنک' میں اداکار بلال عباس خان کے والد کا رول ادا کر رہے ہیں۔

وی او اے سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ انسان وقت کے ساتھ ہر چیز کو اپنا لیتا ہے۔ وہ اپنے اندر ہر طرح کے ماحول میں ایڈجسٹ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ویسے بھی ایڈجسٹمنٹ تو لازمی ہے۔ لوگ وقت کے ساتھ ساتھ کرونا کی پابندیوں میں بھی خود کو ایڈجسٹ کرلیں گے۔ ہمارا انداز اور ہمارے کام کا طرز بھی اسی ماحول میں ڈھل جائے گا۔

کرونا کی وجہ سے پروڈکشن ٹیم کا کام بڑھ گیا؟

بدر محمود سمجھتےہیں کہ کرونا سے پہلے کسی بھی ڈرامے کی پروڈکشن ٹیم کا سارا زور اس کی شوٹنگ پر ہوتا تھا جس کے بعد پوسٹ بروڈکشن پر توجہ دی جاتی تھی لیکن موجودہ حالات میں پوسٹ اور پری پروڈکشن دونوں کا کام بڑھ گیا ہے۔

ان کے بقول اب شوٹنگ سے پہلے ہر روز صبح ہماری ٹیم لوکیشن پر جراثیم کش اسپرے کرتی ہے، اس کے بعد ہی اداکاروں کو سیٹ پر بلایا جاتا ہے۔ کوشش ہوتی ہے کہ میک اپ روم میں ایک وقت میں صرف دو لوگ موجود ہوں، یعنی صرف اداکار اور میک آپ آرٹسٹ۔ زیادہ اداکاروں کو میک اپ کرنے کے لیے ہم نے تین میک اپ رومز بنائے ہیں۔ واٹر پروف میک اپ کا استعمال بڑھ گیا ہے کیوں کہ واٹر پروف میک اپ کو بار بار درست کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

بقول بدر محمود، کرونا کی وجہ سے ایس او پیز پر عمل کیے بغیر ڈرامہ انڈسٹری کا آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ روزانہ صبح تمام اداکاروں اور ٹیم کا درجہ حرارت چیک کیا جاتا ہے، انہیں ماسک اور گلوز پہنائے جاتے ہیں اور کیمرے کے سامنے کام کرنے والوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ہر اداکار کو ہینڈ سیناٹائزر اور ڈس انفیکٹنٹ اسپرے مہیا کیا گیا ہے۔ ہدایت کار کے زیرِ استعمال رہنے والے ہیڈ فونز کو بھی اچھی طرح جراثیم سے پاک کیا جاتا ہے۔

بدر محمود کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیک اپ کے بعد بھی ایس او پیز کا خیال رکھا جاتا ہے اور آرٹسٹوں کے جانے کے بعد ایک بار پھر تمام شوٹنگ ایریا کو ڈس انفیکٹ کیا جاتا ہے۔ اُن کے بقول جب تک کرونا کا خطرہ رہے گا تمام احتیاطی تدابیر کا اسی طرح خیال رکھا جائے گا۔

'جوگ' کے ہدایت کار محسن طلعت نے بھی کچھ ایسی طرح کے اقدامات کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پروڈکشن ٹیم کی روزمرہ کی ڈیوٹی میں ہر روز پورے سیٹ کی صفائی اور اسے ڈس انفیکٹ کرنا شامل ہے، انہی ایس او پیز کی وجہ سے اداکاروں نے شوٹنگ میں شرکت پر رضا مندی ظاہر کی تھی جب تک کرونا ختم نہیں ہوگا اسی طرح ایس او پیز پر عمل کرنا ہوگا۔

'اداکاری کے طریقے بھی تبدیل ہوگئے'

اس حوالے سے بلال عباس خان نے بتایا کہ ہر اداکار کی یہ کوشش ہے کہ شوٹنگ کے دوران یا آف کیمرہ ساتھی اداکار کے ساتھ کم سے کم رابطے میں آئے۔ پہلے اداکار کیریکٹر میں آ کر ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیتے تھے یا قریب کھڑے ہوجاتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہو سکتا۔

شہود علوی نے کہا کہ اداکار ویسے تو سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال رکھ رہے ہیں لیکن سین کی ڈیمانڈ کے مطابق اگر کسی کو چھونا پڑئے یا گلے لگانا ہو تو سین سے پہلے بھی سینیاٹائز کیا جاتا ہے اور بعد میں بھی۔

انہوں نے ایس او پیز پر عمل درآمد کو کرونا سے بچنے کا بہترین اقدام قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سین سے پہلے تمام آرٹسٹ جب ایک ساتھ بیٹھتے ہیں تو ماسک اور گلوز پہنے ہوتے ہیں، آن کیمرہ جانے سے پہلے وہ انہیں اتار دیتے ہیں لیکن شاٹ مکمل ہونے کے فورا بعد سیناٹائز کرکے نئے ماسک اور گلوز پہن لیتے ہیں۔

  • 16x9 Image

    عمیر علوی

    عمیر علوی 1998 سے شوبز اور اسپورٹس صحافت سے وابستہ ہیں۔ پاکستان کے نامور انگریزی اخبارات اور جرائد میں فلم، ٹی وی ڈراموں اور کتابوں پر ان کے تبصرے شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد نام وَر ہالی وڈ، بالی وڈ اور پاکستانی اداکاروں کے انٹرویوز بھی کر چکے ہیں۔ عمیر علوی انڈین اور پاکستانی فلم میوزک کے دل دادہ ہیں اور مختلف موضوعات پر کتابیں جمع کرنا ان کا شوق ہے۔

XS
SM
MD
LG