رسائی کے لنکس

logo-print

نئی دہلی: خواتین پولیس اہلکاروں کی کمی سنگین مسئلہ بن گئی


(فائل فوٹو)

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں جہاں اور بہت سارے مسائل سر اٹھائے کھڑے ہیں وہیں ایک مسئلہ خواتین پولیس افسروں کی کمی بھی ہے۔ عوام کے لیے شاید یہ مسئلہ خاص نہ ہو لیکن مرد پولیس اہلکاروں اور افسران کے لیے یہ مسئلہ وقت کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔

رمیش موہن (فرضی نام) ایک ہیڈ کانسٹیبل ہیں جو دہلی کے اربندو مارگ ریڈ لائٹ ایریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب تعینات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود کو اس وقت بے بس محسوس کرتے ہیں جب وہ خواتین ڈرائیورز کو قابلِ اعتراض اور نشے کی حالت میں آتا دیکھتے ہیں اور معمول کی چیکنگ کے لیے بھی انہیں روک نہیں سکتے۔

رمیش نے کہا کہ چیکنگ کے لیے انہیں خاتون پولیس اہلکاروں کی ضرورت ہے لیکن یہاں ایک بھی خاتون اہلکار ان کے ہمراہ موجود نہیں۔

دہلی کے علاقے جن پتھ کے قریب تعینات ایک 49 سالہ ہیڈ کانسٹیبل مہیش ورما شراب کے نشے میں دھت خواتین کو روکنے کو "رسکی" قرار دیتے ہیں۔

دہلی ٹریفک پولیس کے مطابق ٹریفک پولیس کے تقریباً تین ہزار اہلکار شہر کے مختلف علاقوں اور مقامات پر تعینات ہیں لیکن ان میں خواتین کی تعداد صرف 200 ہے۔

نئی دہلی میں سال 2012 سے 2017 کے درمیان ایک بھی خاتون ڈرائیور کو نشے کی حالت میں گاڑی چلانے نہیں پکڑا جا سکا۔ کیوں کہ موجودہ قوانین کے مطابق خواتین پولیس اہلکاروں کی موجودگی کے بغیر کسی خاتون کو چیکنگ کی غرض سے نہیں روکا جا سکتا۔

متعدد مقامات پر صرف مرد افسران کو ٹریفک پوسٹ میں تعینات کیا جاتا ہے اور انہیں خواتین ڈرائیورز کو نشے کی حالت میں روک کر تفتیش کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔

دوسری جانب 'کمیونٹی اگینسٹ ڈرنکنگ ڈرائیونگ' سروے کے نتائج کے مطابق دہلی میں 18 سال سے 30 سال کی عمر کی 37.8 فی صد خواتین میں شراب پینے کی لت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

سروے رپورٹ کے مطابق آئندہ برسوں میں اس تعداد میں مزید 25 فی صد تک اضافہ متوقع ہے۔

دہلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس امکانی اضافے پر کنٹرول کے لیے تیاری ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں خواتین پولیس اہلکاروں کی تعیناتی لازمی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG