رسائی کے لنکس

logo-print

امریکی خواتین کو بانجھ کرنے کا ملزم پاکستانی نژاد ڈاکٹر عدالت میں پیش


ڈاکٹر جاوید پرویز

امریکہ کی ریاست ورجینیا کی ایک عدالت میں پاکستانی نژاد امریکی ڈاکٹر کے مقدمے کی سماعت ہوئی ہے۔ جاوید پرویز نامی ڈاکٹر پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے کئی مریضوں کے غیر ضروری آپریشن کیے جبکہ کچھ خواتین کو ان کی اجازت کے بغیر بانجھ بھی کر دیا۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے مطابق جاوید پرویز ورجینیا میں گائنا کولوجسٹ (ماہر امراض نسواں) کے طور پر گزشتہ کئی برس سے خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ ہیلتھ کیئر فراڈ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر جاوید پر ایک خاتون کے علم میں لائے بغیر ان کی فیلوپین ٹیوبز (جسمانی حصہ) نکالنے کا بھی الزام ہے۔

جاوید پرویز کی عمر 69 برس ہے جبکہ انہیں آٹھ نومبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے تحت ان پر الزام ہے کہ انہوں نے لوگوں سے ان کی صحت کے معاملے میں جھوٹ بولا ہے۔

ڈاکٹر جاوید پر الزام ہے کہ انہوں نے 2011 میں ایک حاملہ مریضہ سے پوچھا کہ کیا آپ ایک اور بچہ پیدا کرنا چاہتی ہیں؟ تین سال بعد جب خاتون نے اپنا معائنہ کرایا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کی دونوں فیلیپین ٹیوبز نکال دی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ دوبارہ حاملہ نہیں ہو سکتی تھیں۔

پاکستانی نژاد ڈاکٹر پر الزام ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو کینسر سے ڈرا کر خوف میں مبتلا کرتے تھے تاکہ وہ آپریشن کرانے پر تیار ہو جائیں اور پھر مریضوں کے علم میں لائے بغیر غیر ضروری سرجریز کرتے تھے۔

عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر جاوید سے آپریشن کرانے والے مریض اس بات سے آگاہ نہیں ہوتے تھے کہ ان کا آپریشن کس پروسیجر کے تحت ہوگا۔ اسی طرح کئی مریضوں کے علم میں لائے بغیر انہوں نے غیر ضروری آپریشنز کیے۔

ڈاکٹر جاوید کے وکیل لارنس ایچ ووڈورڈ نے ان پر لگے الزامات سے متعلق کوئی موقف دینے سے گریز کیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر پرویز کے خلاف تحقیقات کا آغاز گزشتہ سال ستمبر میں کیا گیا تھا۔ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کو ڈاکٹر جاوید کے ہی اسپتال کے ایک ملازم نے اطلاع دی تھی کہ ڈاکٹر جاوید غیر ضروری سرجریز میں ملوث ہیں۔

ڈاکٹر جاوید پرویز نے پاکستان میں ہی پنجاب یونیورسٹی سے میڈیکل کی تعلیم حاصل کی تھی جب کہ میڈیکل لائسنس انہوں نے ورجینیا میں ہی حاصل کیا تھا۔ وہ گزشتہ 30 برس سے پریکٹس کر رہے تھے۔

XS
SM
MD
LG