رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی کشمیر: آئینی حیثیت میں تبدیلی کی کوششوں کے خلاف دو روزہ ہڑتال


دو روزہ ہڑتال کے پہلے روز اتوار کو سرینگر کا مرکزی لال چوک سنسان پڑا ہے۔

ہڑتال کے پہلے دن وادی میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے ہیں۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت کو بدلنے اور اس کے شہریوں کو حاصل استحقاق ختم کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف مسلم اکثریتی وادئ کشمیر اور ریاست کے جموں خطے کے چند علاقوں میں اتوار سے دو روزہ عام ہڑتال کی جا رہی ہے۔

ہڑتال کے پہلے دن وادی میں مکمل پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہے جس کی وجہ سے معمولاتِ زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ہڑتال اور مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:59 0:00

​ہڑتال کی اپیل استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے کی تھی جس کی توثیق مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی تنظیموں، تاجر انجمنوں اور سول سوسائٹی گروپس نے بھی کی ہے۔

وادئ کشمیر میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر حکام نے ریل سروسز بند کردی ہیں اور جنوبی کشمیر کی پہاڑیوں میں واقع ھندوؤں کے متبرک مقام امر ناتھ گھپا کی سالانہ یاترا کو آنے والے زائرین کی جموں کے بیس کیمپ سے روانگی عارضی طور پر روک دی ہے۔

ہڑتال آئینِ ہند کی دفعہ 35 اے کو منسوخ کرنے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ میں دائر کی جانے والی ایک درخواست کی پیر کو ہونے والی سماعت کے خلاف کی جارہی ہے۔

کشمیری تاجر سرینگر کے لال چوک پر آئین کی دفعہ 35 اے کو برقرار رکھنے کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔
کشمیری تاجر سرینگر کے لال چوک پر آئین کی دفعہ 35 اے کو برقرار رکھنے کے حق میں مظاہرہ کر رہے ہیں۔

دفعہ 35 اے کے تحت جموں و کشمیر کی ریاستی اسمبلی کو ریاست کے "مستقل رہائشیوں" (دیرینہ باسیوں) کا تعین کرنے اور انہیں خصوصی حقوق اور مراعات دینے کا حق حاصل ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دفعہ 35 اے منسوخ کی جاتی ہے تو اس سے ریاست میں 1927ء سے نافذ وہ قانون متاثر ہوگا جس کے تحت کئی پشتوں سے کشمیر میں آباد افراد ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرسکتے ہیں۔

دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کے لیے بھارتی سپریم کورٹ میں عرضی ایک غیر سرکاری تنظیم 'وی، دی سٹیزنز' نے 2014ء میں دائر کی تھی جسے مبینہ طور پر قدامت پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سوئیم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی پشت پناہی حاصل ہے۔

کشمیر کے مختلف حلقے یہ خدشہ ظاہر کر چکے ہیں کہ عدالت اس آئینی ضمانت کو منسوخ کر سکتی ہے۔

عدالت میں آئینِ ھند کی دفعہ 370 کے خلاف بھی ایک عرض داشت زیرِ سماعت ہے۔ اس دفعہ کے تحت ریاست کشمیر کو بھارت میں خصوصی آئینی حیثیت حاصل ہے۔

سرینگر میں کشمیری مسلمان آئین کی دفعہ 35 اے ختم کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
سرینگر میں کشمیری مسلمان آئین کی دفعہ 35 اے ختم کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔

کشمیری جماعتوں کا، جن میں استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والی جماعتیں بھی شامل ہیں، استدلال ہے کہ دفعہ 35 اے کو منسوخ کرانے کے مطالبے کے پیچھے مسلم اکثریتی ریاست میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی سوچ کار فرما ہے۔

ان کا الزام ہے کہ بھارت کی حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس آئینی شق کے خلاف مہم چلانے والوں کی پشت پناہی اور اعانت کر رہی ہے۔

ریاست کی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے اور دفعہ 35 اے کے تحت اس کے باشندوں کو حاصل استحقاق کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف تحریک میں کئی بھارت نواز سیاسی جماعتیں بھی شامل ہوگئی ہیں جن میں نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی (پی ڈی پی) پیش پیش ہیں۔

نیشنل کانفرنس کا کہنا ہے کہ اگر دفعہ 35 اے منسوخ کی جاتی ہے تو بھارت کے ساتھ ریاست کا الحاق خود بخود ٹوٹ جائے گا جبکہ 'پی ڈی پی' کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ دفعہ 35 اے اور دفعہ 370 نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر اور بھارت کے درمیان ایک پُل کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان کی منسوخی اس پُل کے ٹوٹنے کا مؤجب بن جائے گی۔

بھارت میں حزبِ اختلاف کی جماعتوں کانگریس اور مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی نے بھی اسی طرح کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ہر ایسی کوشش کا توڑ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد ریاست کی خصوصی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنا ہو۔

کشمیر میں ہڑتال ایسے وقت ہو رہی ہے جب ایک روز قبل ہی بھارتی فوجیوں اور مبینہ علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار اور سات علیحدگی پسند ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والے علیحدگی پسند جنگجووں کی نمازِ جنازہ میں خواتین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔
کشمیر میں ہڑتال ایسے وقت ہو رہی ہے جب ایک روز قبل ہی بھارتی فوجیوں اور مبینہ علیحدگی پسندوں کے درمیان جھڑپ میں ایک فوجی اہلکار اور سات علیحدگی پسند ہلاک ہوگئے تھے۔ ہلاک ہونے والے علیحدگی پسند جنگجووں کی نمازِ جنازہ میں خواتین سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی۔

استصوابِ رائے کا مطالبہ کرنے والے کشمیری قائدین کے اتحاد 'مشترکہ مزاحمتی قیادت' نے خبر دار کیا ہے کہ اگر بھارتی سپریم کورٹ نے ان کے بقول کشمیری عوام کے مفادات کے خلاف فیصلہ دیا تو ریاست میں ایک ہمہ گیر مزاحمت شروع کی جائے گی۔

مزاحمتی قیادت نے بھارت پر اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں فلسطین جیسے حالات پیدا کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ آئینی دفعات کے ساتھ دانستہ کھلواڑ یہاں غیر مسلموں کو بسا کر ریاست کے مسلم اکثریتی تشخص کو بدلنے کے لیے کیا جارہا ہے۔

حکمران بی جے پی اس طرح کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔ تاہم اس کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کے بھارت میں مکمل انضمام کے حق میں ہے۔

اس کا اور ہم خیال سیاسی جماعتوں اور گروپس کا استدلال ہے کہ دفعہ 35 اے کی بقا کا دار و مدار سپریم کورٹ کے فیصلے اور ملک کے عوام کی مجموعی خواہش پر ہے۔

بی جے پی کا موقف ہے کہ دفعہ 35 اے اُن بنیادی حقوق کے خلاف ہے جن کا آئینِ ہند شہریوں کو یقین دہانی کراتا ہے۔

بھارتی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے دو مبینہ علیحدگی پسند جنگجووں کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ایک جنگجو بھارت مخالف نعرے لگوا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق نعرے لگوانے والا شخص (تصویر میں دائیں جانب) پاکستانی کمانڈر ہے۔
بھارتی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے دو مبینہ علیحدگی پسند جنگجووں کی نمازِ جنازہ کے موقع پر ایک جنگجو بھارت مخالف نعرے لگوا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق نعرے لگوانے والا شخص (تصویر میں دائیں جانب) پاکستانی کمانڈر ہے۔

بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر جموں و کشمیر کے گورنر نے بھارتی سپریم کورٹ سے ایک درخواست کے ذریعے دفعہ 35 اے پر سماعت ملتوی کرنے کی گزارش کی ہے۔

محکمۂ قانون نے ریاست کے وکیل شعیب عالم کے ذریعے عدالتِ عظمیٰ کے رجسٹرار کو لکھے گئے ایک مکتوب میں استدلال پیش کیا ہے کہ ریاست میں چونکہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع ہوگئی ہیں، لہٰذا دفعہ 35 اے کے متعلق کوئی بھی حکم ریاست میں ایسی صورتِ حال پیدا کرنے کا مؤجب بن سکتی ہے جس سے انتخابی عمل متاثر ہو۔

ریاست میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے 19 جون کو ختم ہونے کے بعد سے گورنر راج نافذ ہے۔

گورنر نریندر ناتھ ووہرا نے بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کو بھی ایک خط لکھ کر ان سے درخواست کی ہے کہ ریاست میں عوامی حکومت کے قیام تک دفعہ 35 اے کے معاملے کو التوا میں رکھا جائے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG