رسائی کے لنکس

logo-print

سری نگر: فوجی اہلکاروں سے جھڑپ، پانچ عسکریت پسند ہلاک


فائل

نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے جنوبی ضلع شوپیان میں بھارتی فوج کے ساتھ ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران پانچ مشتبہ عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ یہ جھڑپ جمعہ کی شام شوپیان کے کِلورہ نامی گاؤں میں شروع کیے گئے آپریشن کے آغاز پر ہوئی۔

یہ کارروائی میں بھارتی فوج، وفاقی پولیس فورس سی آر پی ایف اور مقامی پولیس کے عسکریت مخالف اسپیشل آپریشنز گروپ (ایس او جی) نے وہاں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر کی۔

عہدیداروں کے مطابق، حفاظتی دستوں کی طرف سے کئے گئے پہلے وار میں ایک عسکریت پسند کو جمعے کی شام کو ہی ہلاک کیا گیا تھا، جبکہ اُس کے چار ساتھی رات بھر جاری رہنے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے۔

عہدیداروں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے پانچوں عسکریت پسند مقامی کشمیری ہیں جن کی شناخت ارشد احمد، وقار احمد شیخ، اعجاز احمد پال، عمر ملک اور عارف احمد میر کے نام سے کی گئی ہے۔

پولیس سربراہ شیش پال وید نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پانچوں کی لاشیں اُن کے لواحقین کے حوالے کردی گئی ہیں۔

پولیس سربراہ نے کہا کہ ان میں سے ایک ارشد احمد کی تدفین کے دوران، جو اُس کے آبائی گاؤں گنوپورہ میں ہورہی تھی، فوج کی طرف سے ’’ایک مشتعل ہجوم پر کی گئی فائرنگ میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا‘‘۔

ہلاک ہونے والے شہری کی شناخت 24 سالہ بلال احمد کے طور پر کی گئی ہے۔ عینی شاہدین اور اسپتال ذرائع کے مطابق گولی نوجوان کے سینے میں لگی تھی اور جب اُسے شوپیان کے ضلعی اسپتال میں لایا گیا تو ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیدیا۔

ایک پولیس افسر نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جھڑپ کے دوران ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کی تدفین ہورہی تھی تو وہاں عسکریت پسندوں کی ایک جمعیت بھی نمودار ہوئی جس نے ہوائی فائرنگ کرکے اپنے ساتھی کو سلامی دی۔ فائرنگ کی آواز سن کر فوج بھی وہاں پہنچی۔ لیکن جنازے میں شامل نوجوانوں نے پتھر برسا کر مزاحمت کی۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں ہلاکتیں اور مظاہرے
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:44 0:00

اس سے پہلے کلورہ میں عسکریت پسندوں اور حفاظتی دستوں کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران مقامی باشندوں نے سڑکوں پر نکل کر بھارت مخالف مظاہرے کئے اور ایک نجی گھر میں پھنسے ہوئے عسکریت پسندوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اُن کے اور بھارت سے آزادی کے مطالبے کے حق میں نعرے لگائے۔

عہدیداروں نے بتایا ہے کہ مظاہرین میں شامل نوجوانوں نے حفاظتی دستوں پر سنگباری کی جس کے جواب میں حفاظتی دستوں نے اُن پر آنسو گیس استعمال کی اور چَھرے والی بندوقیں چلائیں؛ جس سے 20 سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔

ان دو واقعات میں شدید طور پر زخمی ہونے والے نو افراد کو بہتر علاج کے لئے شورش زدہ ریاست کے گرمائی صدر مقام سرینگر لایا گیا ہے۔

سرینگر میں پولیس کی طرف سے جاری کئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’جمعے کی شام کلورہ کے ایک نجی مکان میں محصور عسکریت پسندوں میں سے ایک کے ہلاک ہونے کے بعد اُس کے ساتھیوں نے اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے گھیرے میں لی گئی عمارت سے باہر آکر حفاظتی دستوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جو ان چاروں کے مارے جانے پر منتج ہوئی‘‘۔

بیان میں یہ نہیں کہا گیا آیا جھڑپ کے دوران حفاظتی دستوں کو بھی جانی نقصان اُٹھانا پڑا۔

اس دوران ہفتے کے روز نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے سرمائی صدر مقام جموں کے بٹھنڈی علاقے میں واقع ریاست کے ایک سابق وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کے اندر مبینہ طور پر زبردستی گھسنے والے ایک شخص کو پولیس محافظوں نے گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

عہدیداروں نے بتایا کہ در انداز ایک ایس یو وی گاڑی میں سوار تھا اور اُس نے مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے نو بجے فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کے مرکزی دروازے کے باہر مورچہ بندی کو پار کرلیا، حالانکہ اُسے حفاظتی دستوں نے رکنے کا اشارہ کیا تھا۔ لیکن اُس نے اسے نظر انداز کردیا اور مورچہ بندی پار کرکے اپنی گاڑی پانچ سو میٹراندر تک لے گیا اور پھر ایک پولیس محافظ پر حملہ کرکے اُسے زخمی کردیا۔

جب یہ واقعہ پیش آیا 80 سالہ فاروق عبداللہ جو نئی دہلی کے زیرِ انتظام کشمیر کے تین بار وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں اور بھارت نواز علاقائی جماعت نیشنل کانفرنس کے صدر ہیں مکان میں موجود نہیں تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG