رسائی کے لنکس

logo-print

شٹل ‘اینڈیور’ جمعےکو بین الاقوامی خلائی سٹیشن سےجُدا ہوجائے گی


امریکی خلائی شٹل ‘اینڈیور’ کے خلا بازورں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے عملے کوالوداع کہہ دیا

ہفتے بھر سے زیادہ دیر تک مدارمیں گردش کے بعد، امریکی خلائی شٹل ‘اینڈیور’ کے خلا بازورں نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے عملے کوالوداع کہا۔

جمعے کی رات ‘اینڈیور’ کی واپس زمین کو روانگی سے پیشترجمعے کو شٹل اور خلائی سٹیشن کے درمیان دروازے کو بند کردیا گیا ۔

اِس سے پہلے، مشترکہ عملے نے فیتہ کاٹنے کی ایک افتتاحی تقریب میں خلائی سٹیشن میں ‘ٹرانکئلٹی’ نامی مشاہداتی گودی اور اُس کے مشاہداتی گُنبذ کے تازہ اضافے پر خوشی کا اظہار کیا۔ ناسا کے امریکی خلائی ادارے کا کہنا ہے کہ عملے نے چاند کے اُس پتھر کو وہیں چھوڑ دیا جسے ایک سابق خلاباز نے ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی تک لے گیا تھا۔

ٹرانکئلٹی اورگُنبذ کو شٹل کے موجودہ مشن کے دوران نصب کیا گیا۔

گنبذ 1.5میٹر لمبا اور تین میٹر چوڑا ہے۔ اِس میں ایک گول مرکزی کھڑکی کے گِردچوکور لیکن غیر متوازی شکل کی چھ کھڑکیاں ہیں۔

خلائی سٹیشن کے کمانڈر، جیفری ولیمز نے دو کروڑ 70لاکھ ڈالر مالیت کے مشاہداتی گُنبذ یا رصد گاہ سے دکھائی دینے والے دلکش نظارے کو ‘انتہائی درجہ ناقابلِ یقین ’ قرار دیا۔ ناسا کا کہنا ہے کہ اٹلی میں بنی ہوئی رصدگاہ سے سٹیشن کے عملے کو مستقبل میں کی جانے والی خلائی چہل قدمی کی نگرانی کرنے میں مدد ملے گی۔

‘اینڈیور’ اتوار کی رات فلوریڈا کے کینیڈی سپیس سینٹر پر ُاترے گا۔

اِس سال کے اواخر تک بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے طرف چار مزید شٹل مشن بھیجے جانے کا منصوبہ ہے، جِس کے بعد امریکی شٹل کے بیڑے کو ریٹائر کردیا جائے گا۔

XS
SM
MD
LG