رسائی کے لنکس

logo-print

سندھ: رینجرز کے اختیارات میں توسیع کی مشروط قرارداد منظور


قرارداد میں شامل شرائط کے تحت رینجرز اب صرف چار قسم کے جرائم کے خلاف ہی کارروائی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ان جرائم میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی شامل ہیں۔

سندھ اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی شدید ہنگامہ آرائی اور احتجاج کے باوجود صوبے میں رینجرز کو خصوصی اختیارات تفویض کیے جانے سے متعلق مشروط قرارداد بدھ کو کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔

قرارداد صوبائی وزیرداخلہ سہیل انور سیال نے پیش کی تھی جس کی رو سے رینجرز کو بدعنوانی کے خلاف کاروائی کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ قرارداد کے مطابق رینجرز اہلکار چیف سیکریٹری کی اجازت کے بغیر کسی بھی سرکاری دفتر پر چھاپہ نہیں مار سکیں گے۔

قرارداد میں شامل شرائط کے تحت رینجرز اب صرف چار قسم کے جرائم کے خلاف ہی کارروائی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ ان جرائم میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی شامل ہیں۔

قرارداد کے مطابق رینجرز کے اختیارات میں توسیع ایک سال کے لیے کی گئی ہے۔ اس دوران رینجرز کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ کسی بھی اہم شخص کی گرفتاری، سرکاری دفاتر پر چھاپہ مارنے، دہشت گردی کے الزام میں براہ راست ملوث ہونے یا کسی پر ایسا کرنے کا شک ہونے کی صورت میں بھی اس کی گرفتاری سے پہلے وزیراعلیٰ سے تحریری اجازت لی جائے۔

قرارداد کے مطابق رینجرز صوبے میں صرف پولیس کی مدد کرسکے گی اور اس کے علاوہ کسی اور ادارے کی مدد کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔

قرارداد کی منظوری کے موقع پر اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں سخت ہنگامہ آرائی کی۔ حزب اختلاف کے ارکان نے اسپیکر کے ڈائس کا بھی گھیراوٴ کیا اور بدعنوانی کے خلاف نعرے لگائے۔

تحریک انصاف، فنکشنل لیگ اور (ن) لیگ کی جانب سے فیصلے کے خلاف اسمبلی سے واک آوٴٹ کیا گیا۔ ایم کیو ایم کے ارکان نے بھی قرارداد کے خلاف ایوان میں ہونے والے احتجاج میں حصہ لیا جس کے باعث ایوان میں کان پڑی آواز تک سنائی نہیں دے رہی تھی۔ شورشرابے کے دوران ہی اسپیکر نے اسمبلی کا اجلاس جمعے کی صبح تک کے لیے ملتوی کردیا۔

رینجرز کے کسی اختیار کو کم نہیں کیا گیا، مشیر اطلاعات سندھ

وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر اطلاعات مولابخش چانڈیو نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ مذکورہ قرارداد کے تحت سندھ میں رینجرز کےاختیارات میں مشروط توسیع کی گئی ہے۔

بدھ کی شام ایک پریس کانفرنس میں صوبائی مشیر نے کہا کہ کراچی میں رینجرز کا آپریشن جاری رہے گا، رینجرز کے کسی اختیار کو کم نہیں کیا گیا، رینجرز کو جو اختیارات حاصل ہیں وہ برقرار رہیں گے اور وہ انہیں اختیارات کے تحت کارروائی کریں گے۔

مولا بخش چانڈیو کا کہنا تھا کہ رینجرز کی کارروائیوں پر صوبائی حکومت کو کل بھی اعتماد تھا اور آئندہ بھی رہے گا۔

XS
SM
MD
LG