رسائی کے لنکس

logo-print

وزیر اعظم کا دورہٴ کراچی، کچھ اچھے اعلانات کچھ بہتری کے وعدے


وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر کشیدگی کے بعد وزیر اعظم کا یہ پہلا دورہ تھا۔ کراچی آپریشن کے کپتان وزیر اعلیٰ ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کیلئے تو پہنچے، لیکن اس کے بعد منظر سے ایسے غائب ہوئے کہ کہیں نظر نہ آئے

وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کا پیر کو کیا جانے والا کراچی کا ایک روزہ دورہ کچھ اچھے اعلانات اور کچھ بہتری کے وعدوں کے ساتھ ختم ہوگیا۔ وزیر اعظم صبح کے اوقات میں شہر قائد پہنچے جہاں انہوں نے بن قاسم میں کول پاور پروجیکٹ کا معائنہ کیا اور اسے 2017ء تک مکمل کرنے کی ہدایات دیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ 31 دسمبر 2017ء تک اس منصوبے سے بجلی کی پیداوار شروع ہوجانی چاہئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کے ذریعے دو سال تک 10ہزار میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔

بعدازاں، انہوں نے وفاق ہائے ایوان صنعت و تجارت پاکستان یعنی ایف پی سی سی آئی کے زیر اہتمام 39 ویں سالانہ ایکسپورٹ ایوارڈز کی تقریب میں شرکت کی اور صنعتی صارفین کیلئے بجلی کے نرخ 3 روپے فی یونٹ کم کرنے کا اعلان کیا۔

ساتھ ہی وزیراعظم نے یہ یقین بھی دلایا کہ حالات بہتر ہونے پر صنعتی برادری کی مدد کیلئے مزید سہولیات دی جائیں گی۔ اس اعلان کا صنعتی اور کاروباری برادری سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے کھڑے ہو کر خیر مقدم کیا۔

وفاق اور سندھ حکومت کے درمیان رینجرز کے اختیارات میں توسیع کے معاملے پر کشیدگی کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کا یہ پہلا دورہ تھا۔ کراچی آپریشن کے کپتان وزیر اعلیٰ ایئرپورٹ پر ان کے استقبال کیلئے تو پہنچے، لیکن اس کے بعد کہیں موجود نظر نہ آئے۔

شاید یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم نے کراچی آپریشن کی کامیابی پر ڈی جی رینجرز، آئی جی سندھ اور چیف سیکریٹری کو تو مبارکباد دی، لیکن آپریشن کے کپتان کہلائے جانے والے وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کا ذکر تک نہیں کیا۔ یہی وہ اقدام تھا جو میڈیا میں ’کھینچا تانی‘ کا سبب رہا۔

تاہم، پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر سعید غنی نے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی طبیعت ناساز تھی اور وہ وزیر اعظم نواز شریف کی اجازت کے بعد ہی تقریب سے غیر حاضر تھے۔

مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ کو دل کی دھڑکن تیز ہوجانے کی شکایت پیدا ہوگئی تھی جس کے سبب انہیں دو گھنٹے اسپتال میں گزارنا پڑے۔

سعید غنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ تمام انتظامیہ وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہے۔ لہٰذا، سندھ کی انتظامیہ کی تعریف اور مبارک باد کا مطلب دراصل وزیر اعلیٰ کو مبارک باد ہے، وزیر اعلیٰ ہی آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں۔

ادھر سندھ کے وزیر تعلیم اور پیپلز پارٹی کے رہنما نثار کُھہڑو نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے رینجرز کے اختیارات کا معاملہ حل نہ کیا تو دیگر آپشن بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار، وزیراعظم کو بائی پاس کرکے وفاق کو صوبوں سے لڑانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو کراچی میں رینجرز اختیارات کے معاملے پر تحفظات دور کرنے کے لئے اسلام آباد طلب کرلیا ہے، جہاں ان کی ملاقات وزیرداخلہ سے بھی ہوگی۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت معیشت کی بہتری، توانائی کی قلت کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی جیسے تین بڑے چیلنجوں سے موثر طور پر نبرد آزما ہو رہی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ کراچی کے حالات بہتر بنانے کے لیے ہم نے ہی اتفاق رائے سے آپریشن کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے بہتر نتائج نکلے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج شہر کے حالات چند برس پہلے سے کافی بہتر ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کو درمیان میں نہیں چھوڑیں گے۔

XS
SM
MD
LG