رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی میں سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت ہے: طبی ماہرین


کراچی میں سماجی فاصلے کی پابندی کے لیے ایک بینک کے باہر لگائے گئے دائروں میں لوگ اپنی باری کا انتظاار کر رہے ہیں۔

کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافے کے باعث حکومتِ سندھ نے کراچی کے متعدد علاقوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس لاک ڈاؤن کا اطلاق جمعرات کی شام سات بجے سے ہوا ہے اور دو جولائی تک جاری رہے گا۔ پرچون کی دکانیں اور میڈیکل سٹور اس لاک ڈاؤن کے دوران دن گیارہ بجے سے شام پانچ بجے تک کھلے رہیں گے۔

ڈاکٹر عمر ایوب خان پاکستان میں سارک کی پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ہیں۔ کامن ویلتھ میڈیکل ٹرسٹ ہیلتھ انیشییٹیو پاکستان کے ڈائریکٹر اور امیریکن میڈیکل سوسائٹی کے رکن اور رائل سوسائٹی آف میڈیسن، یونائیٹڈ کنگڈم کے اوورسیز فیلو ہیں۔ اس وقت پبلک ہیلتھ کے ایک اہم عہدیدار کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی پاکستان کا واحد میٹرو پولیٹن سٹی ہے۔ دو کروڑ کی آبادی والے اس شہر میں کووڈ کے مریضوں کی تعداد اتنی بڑھ گئی ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں اب جگہ نہیں رہی۔ چنانچہ سندھ میں کلسٹر سیمپلنگ کے ذریعے جو اعداد و شمار سامنے آئے ان کی بنیاد پر ایک روز پہلے ہی یہ فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ اب لاک ڈاؤن کے سوا چارہ نہیں ہے۔

کراچی میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاؤن
please wait

No media source currently available

0:00 0:11:03 0:00

ڈاکٹر مرزا علی اظہر پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن سندھ کے صدر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کو لوگ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ انہیں یقین ہی نہیں ہے کہ کرونا وائرس کی وبا سے ان کی جان کو خطرہ ہے۔ وہ اب بھی دودھ دہی اور سگریٹ کی دوکانوں پر کھڑے گپ لگا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وبا کی ابتدا میں ہی سندھ حکومت نے ملک بھر میں لاک ڈاؤن کی تجویز دی تھی، مگر اس سے اتفاق نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم میڈیسن کی زبان میں کہتے ہیں "گولڈن آوور"۔ کہ ایمرجینسی میں مریض کیلئے پہلا ایک گھنٹہ اہم ہوتا ہے جس میں اگر وہ اسپتال پہنچ جائے تو اس اس کی جان بچائی جا سکتی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں وبا کے خلاف گولڈن اوور ہی ضائع کر دیا گیا۔ اور ان کے مطابق رہی سہی کسر سپریم کورٹ کے فیصلے نے پوری کر دی۔ جس کے تحت لاک ڈاؤن ختم کرنا پڑا۔

ڈاکٹر عمر ایوب نے کہا کہ لوگ لاک ڈاؤن کی پرواہ نہیں کرتے اور یہی وجہ ہے کہ مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ 17 جون تک ملک میں مریضوں کی کل تعداد ایک لاکھ 56 ہزار سے زیادہ تھی اور ابھی اور مریض آ رہے ہیں۔ اس لئے لاک ڈاؤن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔

ڈاکٹر عمر ایوب خان
ڈاکٹر عمر ایوب خان

انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وزیرِ اعظم عمران خان نے تو صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ ملک مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت کراچی میں ہیں اور انہوں نے دیکھا ہے کہ لوگ احتیاط سے کام نہیں لے رہے۔ نہ ماسک پہنتے ہیں نہ سوشل ڈسٹنسنگ کا خیال کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے کہا کہ بعض اوقات جب وہ اپنے ہی لوگوں کو ماسک کے بغیر دیکھ کر استفسار کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ ماسک جیب میں رکھ کر گھوم رہے ہیں۔

حال ہی میں ڈیگسامیتھازون نامی ایک دوا کو ڈاکٹروں نے کرونا وائرس کے مریضوں کی جان بچانے کیلئے موثر قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر عمر ایوب اس بارے میں پر امید ہیں کہ برطانوی ڈاکٹروں نے جس دوا کو کووڈ 19 کے مریضوں کی جان بچانے کیلئے کامیاب قرار دی ہے، وہ بے حد سستی ہے اور عام دستیاب ہے اور اس سے ان مریضوں کو بچایا جا سکے گا جو وینٹی لیٹر سے کبھی واپس نہیں آتے۔

مگر اس بارے میں ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں یہ خبر پہنچتے ہی مارکیٹ میں یہ دوا نایاب ہو گئی ہے اور دس روپے میں ملنے والی دوا اب ہزار روپے میں بلیک میں مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مریضوں کیلئے ضروری طبی سہولتوں کو اپنے منافع کیلئے استعمال کرنا افسوسناک امر ہے مگر بد قسمتی سے ایسا پاکستان میں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں جگہ نہ ملنے پر اگر کوئی مریض کسی نجی ہسپتال میں لیجایا جاتا ہے تو اس سے لاکھوں روپے چارج کئے جاتے ہیں اور دس روز کی رقم پیشگی جمع کروانے کیلئے کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹر عمر ایوب کہتے ہیں کہ پاکستان میں جو لوگ وسائل نہیں رکھتے ان کیلئے کرونا کا ٹیسٹ کروانا بھی ممکن نہیں کیونکہ سرکاری اسپتالوں میں یہ ٹیسٹ نہ ہو سکے تو پرائیویٹ سیکٹر میں ایک ٹیسٹ پر نو ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ اگر ایک گھر میں آمدنی ہی چودہ پندرہ ہزار ماہانہ ہو اور دس افراد کا ٹیسٹ کروانا پڑے تو اسی نوے ہزار وہ کہاں سے لائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لئے وہ حکومت سے کہہ رہے ہیں کہ جن علاقوں میں مریض زیادہ سامنے آئیں، وہاں سخت لاک ڈاؤن کیا جائے۔ تاہم ڈاکٹر عمر ایوب کہتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیسٹ بھی اس تعداد میں نہیں ہو رہے جو 20 کروڑ کی آبادی والے اس ملک کا تقاضا ہے۔

ڈاکٹر مرزا علی اظہر
ڈاکٹر مرزا علی اظہر

ڈاکٹر مرزا علی اظہر کہتے ہیں ہمارے سامنے دو چیزیں ہیں ایک غربت اور ایک انسانی جان اور ان کے نزدیک انسانی جان کی اہمیت زیادہ ہے کیونکہ ہماری قوم کی خاصیت ہے کہ یہ بھوک سے کسی کو مرنے نہیں دے گی مگر کرونا سے جان چلی گئی تو اسے کوئی واپس نہیں لا سکتا۔ اس لئے معیشت کو بچانے سے بڑھ کر انسانی جان بچانا ترجیح ہونی چاہئے۔

ڈاکٹر عمر ایوب کہتے ہیں کہ اس وقت جو پالیسی چل رہی ہے اس کے تحت پانچ روز تک شام سات بجے تک کام کرنے، سوشل ڈسٹنسنگ اور ماسک پہننے کی بات کی گئی ہے مگر مریضوں کی تعداد اگر ایک لاکھ ساٹھ ہزار تک پہنچ رہی ہے تو اتنی تو ہماری اہلیت ہی نہیں ہے، ہمارے پاس اتنے ڈاکٹر ہی نہیں ہیں۔ پاکستان میں ایک لاکھ پچاس ہزار رجسٹرڈ ڈاکٹرز ہیں بھی تو سب کرونا کے مریضوں کا علاج کرنے کی تربیت نہیں رکھتے۔ ان کی تعداد صرف بیس ہزار کے قریب ہے۔ اور ان میں بھی انٹینسیو کیئر ڈاکٹر چار پانچ ہزار بھی نہیں ہیں تو ہم تیزی سے اس جانب جا رہے ہیں جو اٹلی کی صورتِ حال تھی۔

دونوں ممتاز طبی ماہرین نے زور دے کر کہا کہ حکومت کو جلد کوئی پالیسی بنا کر اس پر سختی سے عمل کروانا ہو گا۔ ڈاکٹر عمر ایوب نے کہا کہ فیصلے دو طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جو طوفان آنے سے پہلے کئے جاتے ہیں اور دوسرے طوفان آنے کے بعد اور لگتا ہے کہ یہ طوفان آنے کے بعد فیصلہ کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG