رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کے باعث بے یقینی: 'کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے'


فائل

وہ ایک سرجن ہیں۔ قائدِ اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے پرنسپل رہے ہیں۔ سرجنز اور ڈاکٹروں کے استاد ہیں۔ مگر ڈاکٹر جاوید اقبال کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کرونا وائرس کا زور کب تھمے گا۔ فکر ہے تو یہ کہ اپنے لوگوں کو اس کی شدت کا احساس کیسے دلائیں۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کے اپنے دو ڈاکٹر بیٹے اس مرض میں مبتلا ہو چکے ہیں اور وہ ان کا خود علاج کر رہے ہیں۔ لیکن، وہ کہتے ہیں کہ بعض اوقات انہیں ایک الجھن، ایک بے بسی سی محسوس ہوتی ہے کہ ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے وہ جو کچھ جانتے ہیں اپنے ملک کے لوگوں کو اس پر عمل کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں حکومت کی مشکل یہ ہے کہ وہ اگر لاک ڈاؤن سخت کرتی ہے تو روزانہ کی بنیاد پر روزی کمانے والے لوگ سخت مالی مشکلات کا شکار ہو جائیں گے اور اگر لاک ڈاؤن نہ کیا جائے تو مریض اسی تیزی سے بڑھتے رہیں گے جیسا کہ اس وقت ہو رہا ہے۔ لیکن، پھر بھی، ان کے بقول، ''لوگوں کو کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا کہ وہ خریداری کریں، دفتروں میں جائیں، گھومیں پھریں، کیونکہ جب تک اس وائرس کو پھیلنے سے نہیں روکیں گے، اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے''۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں جو اضافہ ہو رہا ہے، اس سے بچاؤ کے لئے صرف اشتہارات اور میڈیا پر احتیاطی تدابیر بتانے سے کام نہیں چلے گا، بلکہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایک جامع اور مشترکہ پالیسی بنانی ہو گی جس پر پورے ملک میں ایک ساتھ عمل ہو۔

کرونا وائرس:کسی کو خبر بھی ہے کہ کب تلک یہ سفر ہے جاری رہے گا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:11:56 0:00

انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کا المیہ یہ ہے کہ ہم ستر برس میں بھی ایک ایسی قوم نہیں بن سکے جو قانون پر عمل کرتی ہو۔ اب مزید وقت ضائع کئے بغیر حکومت کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے ان تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کروانا ہو گا جو خود لوگوں ہی کی حفاظت کیلئے ضروری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کے چیلنج کے باوجود صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک دوسرے پر نکتہ چینی سے باز نہیں آتیں اور ایک دوسرے کو موردِ الزام ٹھہرانا بھی بند نہیں ہوا۔

ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ بحیثیت قوم پاکستانیوں نے ایک دوسرے کا درد محسوس نہ کیا تو انہیں بچانے کوئی نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ اس مشکل وقت میں بھی زیادہ سے زیادہ فائدہ اور منافع کمانے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں قانون کی گرفت میں آنا چاہئے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس دوا کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ کووڈ نائنٹین کے مریضوں کی لئے کارگر ہو سکتی ہے وہی مارکیٹ سے غائب کر دی جاتی ہے۔ خود ان کے بیٹوں کیلئے انہیں جس انجکشن کی ضرورت تھی وہ اچانک مارکیٹ سے غائب ہو گیا اور پھر انہیں تین گنا قیمت ادا کر کے اسے خریدنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ بعض افواہیں ایسی ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا لوگ ان پر یقین کیسے کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ افواہ کہ ڈاکٹر کوئی ٹیکہ لگا کر کووڈ کے مریضوں کو مار دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کووڈ کا سب سے زیادہ شکار ڈاکٹر اور باقی طبی عملہ ہو رہا ہے، کیونکہ ان کا براہِ راست واسطہ کووڈنائنٹین کے مریضوں سے ہوتا ہے۔

اگر انسان خود ہی اپنے فائدے اور نقصان سے بے نیاز ہو جائیں، کھلی حقیقت کو ماننے سے انکار کر دیں تو انہیں کون بچائے گا۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں کہ ایسا حکومت ہی کو کرنا ہوگا، کیونکہ پاکستانی معاشرے میں ایسے پریشر گروپ نہیں ہیں جو محلے کی سطح پر کسی مسئلے کو حل کرنے کیلئے لوگوں کو متحد کر سکیں۔ البتہ، انہوں نے کہا کہ یہی وقت ہے جب پاکستان کے وزیر اعظم کو عوام کی درست رہنمائی کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی قوم کو اس مشکل گھڑی سے نکالیں، ورنہ کسی کو علم نہیں کہ ہم کہاں جارہے ہیں اور آنے والا وقت ہمیں کس صحرا میں بھٹکا دے گا۔

ڈاکٹر جاوید اقبال نے، جو شاعر اور سوشل میڈیا مینٹور بھی ہیں، اپنی اس بات کو نظم کی شکل میں اس طرح بیان کیا ہے:

کسی کو کچھ بھی خبر نہیں ہے

کہ کب تلک یہ سفر ہے جاری

یہ لوگ جانے کس گماں پر

کہاں سے چلنا شروع ہوئے تھے

رکے گا یہ قافلہ کہاں پر

کہاں پہ ہے آرزو کی منزل

کہ جس طرف کھنچ رہے ہیں سارے

سب اپنی آشاؤں کے سہارے

سمے کے صحراؤں میں مارے مارے

بھٹک رہے ہیں یہ بے ارادہ

نہ کوئی منزل نہ کوئی جادہ

خبر کسی کو ذرا نہیں ہے

کسی کو کچھ بھی پتہ نہیں ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال کا مکمل آڈیو انٹرویو سننے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG