رسائی کے لنکس

logo-print

فلم ’سنگھ صاحب‘ پر مذہبی تنظیموں کو اعتراض


سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم’شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی‘ کا کہنا ہے کہ ’سنگھ صاحب‘ ایک مقدس لفظ ہے جسے ہر کسی کے نام کے ساتھ نہیں لکھا جاسکتا

بالی وڈ کے ’ماچو مین‘ سنی دیول کی نئی فلم ’سنگھ صاحب دی گریٹ‘ باکس آفس پر آنے سے پہلے ہی تنازعات میں گھر گئی ہے۔ اور یہ تنازع فلم کے نام پر ہے۔

بھارت میں سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم’شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی‘ کا کہنا ہے کہ ’سنگھ صاحب‘ ایک مقدس لفظ ہے۔ اسے ہر کسی کے نام کے ساتھ نہیں لکھا جاسکتا۔ بلکہ، یہ امرتسر میں واقع سکھوں کی عبادت گاہ ’گولڈن ٹیمپل‘ کے گرنتھیوں اور جتھے داروں (مذہبی پیش رو) کے لئے مخصوص ہے۔ اسے تجارتی مقاصد کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

بھارت کے مؤقر اخبار ’انڈین ایکسپریس‘ کا کہنا ہے کہ پربندھدک (گروداروں کی انتظامی) کمیٹی نے اس بات پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے کہ پروڈیوسر نے فلم کا ٹائٹل منتخب کر تے ہوئے ان سے مشورہ نہیں لیا۔

سکھوں کی ہی ایک اور تنظیم ’اکال تخت‘ نے بھی ’سنگھ صاحب ۔۔دی گریٹ‘ کا سنجیدگی سے نوٹس لے لیا ہے۔ اکال تخت کا کہنا ہے کہ اس ٹائٹل سے سکھ کمیونٹی میں غلط فہمیاں پیدا ہوسکتی ہیں۔

اس سے پہلے سنی دیول کی فلم ’جو بولے سو نہال‘ کو بھی ٹائٹل کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

فلم ’غدر ۔ ایک پریم کتھا‘ سے شہرت پانے والے انیل شرما کی ڈائریکٹ کردہ فلم ’سنگھ صاحب دی گریٹ‘ نومبر کی 22 تاریخ کو ریلیز کی جائے گی۔
XS
SM
MD
LG