رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی وزیرستان: جھڑپ میں چھ مبینہ دہشت گرد اور دو فوجی ہلاک


حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے دو جوان سپاہی محمد شمیم اور سپاہی اسد خان بدھ کے روز ہونے والی جھڑپ کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ (فائل فوٹو)

افغانستان سے ملحقہ قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں سیکیورٹی فورسز اور مبینہ عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ میں حکام نے دو اہلکاروں اور چھ مبینہ دہشت گردوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔

حکام کے مطابق سیکیورٹی فورسز کے دو جوان سپاہی محمد شمیم اور سپاہی اسد خان بدھ کے روز ہونے والی جھڑپ کے دوران ہلاک ہو گئے ہیں۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ جھڑپ اس وقت ہوئی جب ایک گھر میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع موصول ہونے پر سیکیورٹی فورسز کے جوان پہنچے تو دہشت گردوں نے فائرنگ شروع کر دی۔

آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کی فائرنگ سے دو اہلکار ہلاک ہوئے اور جوابی کارروائی میں چھ دہشت گرد مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے فوجی کارروائی میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی شناخت کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان کا علاقہ دتہ خیل افغانستان کی سرحد سے متصل ہے اور اس علاقے میں گزشتہ کئی برسوں سے عسکریت پسند تنظیموں کی جانب سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

جون 2014 کے وسط میں شمالی وزیرستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی کے دوران بھی اس علاقے میں کارروائی کی گئی تھی اور اب تک اس علاقے سے نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی نہیں ہوئی ہے۔

رواں ماہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں عسکریت پسندی اور دہشت گردی کے واقعات تواتر سے ہوتے رہے ہیں۔

ایک روز قبل ضلع صوابی کے ایک گاؤں میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے انسداد پولیو مہم میں شامل دو خواتین اہلکاروں کو قتل کر دیا تھا۔ عین اسی دن سرحد پار افغانستان سے نامعلوم افراد نے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان مصروف ترین سرحدی گزر گاہ طورخم پر دو راکٹ داغے تھے۔

راکٹ حملے میں کسی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا تھا۔ البتہ پاکستان نے سرحدی گزر گاہ کو کئی گھنٹوں تک بند کر دیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG