رسائی کے لنکس

logo-print

قلات: کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے سے چھ کان کن ہلاک


فائل فوٹو

امدادی ٹیموں کے ارکان زہریلی گیس سے بچنے کے لیے ما سک پہن کر کان کے اندر گئے اور تمام مزدوروں کی لاشوں کو وہاں سے نکالا۔

بلوچستان کے ضلع قلات میں کوئلے کی ایک کان کے اندر زہریلی گیس بھرنے سے چھ کان کن ہلاک ہوگئے ہیں۔

لیویز حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ ضلع قلات کی تحصیل سوراب میں بدھ کو پیش آیا۔

کان چند ماہ قبل ہی زیرِ زمین موجود کوئلہ نکالنے کے لیے بنائی گئی تھی تاہم اس سے کوئلہ نکالنے کا کام شروع نہیں کیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق بدھ کی صبح کان سے کوئلہ نکالنے کے لیے کان کن سیکڑوں فٹ گہرائی میں گئے لیکن شام تک ان کے واپس نہ آنے پر امدادی ٹیموں کو طلب کیا گیا۔

امدادی ٹیموں کے ارکان زہریلی گیس سے بچنے کے لیے ما سک پہن کر کان کے اندر گئے اور تمام مزدوروں کی لاشوں کو وہاں سے نکالا۔

حکام کا کہنا ہے کہ لاشیں ہلاک افراد کے آبائی علاقوں کو روانہ کردی گئی ہیں جب کہ واقعے کے بعد کان کو سیل کردیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والے دو مزدوروں کا تعلق ضلع قلات جب کہ دیگر چار کا کوئٹہ سے ہے۔

بلوچستان کے پانچ اضلاع میں کوئلے کی ڈھائی ہزار سے زائد کانیں ہیں جہاں سے ہر سال لاکھوں ٹن کوئلہ نکالا جاتا ہے۔

ان کانوں سے 40 ہزار سے زائد افراد کا روزگار وابستہ ہے لیکن مناسب حفاظتی انتظامات اور بروقت ہنگامی امداد نہ پہنچنے کے باعث کوئلے کی ان کانوں میں حادثات معمول ہیں۔

کان کنوں کی انجمنوں کا مؤقف ہے کہ بلوچستان کی بیشتر کانوں میں تازہ ہوا کے گزر کا کوئی انتظام نہیں اور نہ ہی کانوں کی انتظامیہ کے پاس جان بچانے کے لیے ضروری دیگر سامان ہوتا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG