رسائی کے لنکس

اسموک پر کنٹرول، شہباز شریف کا بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو خط


وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف۔ فائل فوٹو

پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو تجویر دی کہ اس مشترکہ مسئلے سے نمٹنے کے ليے مل کر کوشش کرنے کي ضرورت ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزير اعلي شہبازشريف نے اسموگ پر قابو پانے کے لیے پڑوسی ملک بھارتی پنجاب کے وزير اعلیٰ کيپٹن ریٹائرڈ ارميندرسنگھ کو خط لکھ کر اس کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے کے لیے کہا ہے۔

وزير اعليٰ پنجاب شہباز شريف نے اپنے خط ميں کہا ہے کہ گزشتہ سال سے نہ صرف پاکستانی پنجاب بلکہ بھارتی پنجاب اور خاص طور پر لاهور اور نئي دہلی ميں اسموگ بڑھ رہی ہے۔ جس سے بچے، بوڑھے، جوان، حاملہ خواتین سب ہي سانس اور گلے کی مختلف بيماريوں ميں مبتلا ہو رہے ہيں۔

شہباز شریف نے لکھا ہے کہ دونوں اطراف زیادہ تیزی سے بڑھتی ہوئی تعمیرات، کوڑے کو آگ لگانا، چاول کی فصل کی باقیات کو جلانا، فیکٹریوں اور ٹريفک کا دھواں اسموگ کي وجوہات ہیں جو دونوں طرف آلودگي بڑھا رہي ہے۔

پاکستانی پنجاب کے وزیراعلیٰ نے بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کو تجویر دی کہ اس مشترکہ مسئلے سے نمٹنے کے ليے مل کر کوشش کرنے کي ضرورت ہے۔

شہبازشريف نے بھارتي وزيراعلي کو اسموگ کے خاتمے کے ليے بہتر حکمت عملی بنا کر اکٹھے کام کرنے کي دعوت دي ہے۔ بھارتی پنجاب کو لکھا گیا گیا سوشل رابطے کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر بھی شیئر کیا ہے۔

پاکستان میں صوبہ پنجاب کی عدالت لاهور ہائی کورٹ نے رواں ماہ بڑھتی ہوئی اسموگ کیس پر ایئر کوالٹي ليول مقررہ حد سے تجاوز کرنے پر اسکول، پارکس اور تعليمي ادارے بند کرنے کے احکامات دیے ہیں۔

لاهور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس منصور علی شاہ نے تفصیلی فیصلے میں لکھا کہ ایئرکوالٹی ليول 300 سے زیادہ ہو تو صحت کے لیے خطرناک ہے۔ اس لئے ليول 106 سے 140 ہونے پر پرائمری سکول بند کر دیے جائیں۔ 141 سے 300 ہونے پر پارکس اور تمام تعلیمی ادارے بند کیے جائیں جبکہ 300 سے اوپر ہونے پر میڈیکل ایمرجینسی نافذ کی جائے گی۔

لاهور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلے میں لکھا کہ عوام کی صحت کی حفاظت بھی عدالت کی آئینی ذمہ داری ہے۔ فيصلے ميں حکم ديا گيا کہ ایئر کوالٹی کی ریڈنگ محکمہ ماحولیات کی ویب سائٹ پر روزانہ اپ ڈيٹ کي جائے۔

پنجاب کی وزیر ماحولیات ذکیہ شاہنواز نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی جانب سے بھارتی وزیر اعلیٰ پنجاب کو لکھے گئے خط پر وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کوششیں کرنے کی ضرورت ہے۔

ذکیہ شاہنواز نے کہا کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں اسموگ کی وجہ کسی حد تک بھارت کے شہر دہلی اور امرت سر میں جلائی جانے والی چاول کی فصل کی باقیات ہیں، جنہیں بھارتی حکومت کو روکنا ہو گا۔

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے بیشتر شہر رواں سال اکتوبر اور نومبر میں بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی اسموگ کے باعث متاثر ہوئے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG