رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ میں شدید برفانی طوفان، معمولات زندگی متاثر


شمالی کیرولینا، کنٹیکی اور ٹینیسی میں کار کے حادثات میں کم ازکم چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں جب کہ کئی ریاستوں میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ کیا گیا ہے۔

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی ہفتہ کو برف کی سفید چادر اوڑھ چکا ہے جب کہ محکمہ موسمیات نے یہاں ریکارڈ ساز برفبانی طوفان کی پیش گوئی کر رکھی ہے۔

واشنگٹن ڈی سی سمیت ملک کی مشرقی ساحلی ریاستوں نیویارک اور شمالی کیرولینا میں فضائی، ریل اور سڑک کا سفر معطل ہو کر رہ گیا ہے اور معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

تقریباً 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی سرد ہوائیں مزید برفباری کا باعث بنیں گے جس سے بجلی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے اور صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

جمعہ کو شروع ہونا والا یہ برفانی طوفان اتوار تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

واشنگٹن کے میئر میوریل باؤزر نے ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے جب کہ جمعہ کو ہی تمام اسکول بند کر دیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ "زندگی اور موت جیسی مشکل صورتحال ہے اور ڈی سی کے تمام شہریوں کو اسے اتنی ہی سنجیدگی سے لینا چاہیئے۔"

کم ازکم 20 ریاستوں میں شدید سرد موسم کا انتباہ جاری کیا جا چکا ہے اور ایک اندازے کے مطابق یہاں ساڑھے آٹھ کروڑ سے زائد مشکل صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

شمالی کیرولینا، کنٹیکی اور ٹینیسی میں کار کے حادثات میں کم ازکم چھ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

نیو جرسی، پینسلوینیا، میری لینڈ، ورجینیا، شمالی کیرولینا اور جارجیا کے گورنرز بھی اپنے اپنے ہاں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کی دوپہر تک واشنگٹن اور بالٹی مور کے علاقوں میں طوفانی ہواؤں کی شدت قدرے کم ہو سکتی ہے لیکن اس سے قبل یہ دو سے تین فٹ تک برفباری کا باعث بن سکتی ہیں۔

قومی موسمیاتی سروس کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ واشنگٹن ڈی سی اور بالٹی مور میں ہونے والی برفباری ریکارڈ ساز ہوگی یا نہیں لیکن ادارے کے بقول وہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

اس سے قبل واشنگٹن میں 2010ء میں تقریباً ڈیڑھ فٹ تک برف پڑی تھی جب کہ 1922 میں یہاں ڈھائی فٹ تک برفباری ریکارڈ کی گئی تھی۔

XS
SM
MD
LG