رسائی کے لنکس

امریکہ نے سولر پینلز پر 30 فی صد درآمدی ٹیکس لگا دیا


شمسی توانائی کے پینلز، فائل فوٹو

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے شمسی توانائی کے پینلز کی درآمد پر ٹیکس لگانے کے فیصلے سے عالمی سطح پر تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اس صنعت کو نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

خبررساں ادارے روئیٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی اور ایشیائی اسٹاکس مارکیٹوں میں اس صنعت کے شیئرز گر گئے ہیں اور ان کا کاروبار متاثر ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔

امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ سولر پینلز کی درآمد پر ٹیکس لگانے کا مقصد اس شعبے کی امریکی صنعت کی مدد کرنا اور امریکی سرمایہ کاروں کو اس جانب راغب کرنا ہے۔

صدر ٹرمپ نے پیر کے روز سولر سیل اور اس سے متعلقہ سامان کی درآمد پر 30 فی صد ٹیکس لگانے کی منظوری دی ۔ تاہم ہر سال ڈھائی گگا واٹس کے غیر اسمبل شدہ سولر سیل ٹیکس ڈیوٹی کے بغیر درآمد کیے جا سکیں گے۔

ٹیکس عائد ہونے کی خبر سے جرمنی میں سولر پینل تیار کرنے والے سب سے بڑے ادارے ایس ایم اے، کے حصص 4.6 فی صد تک گر گئے۔ یہ ادارہ اپنی پیداوار کا 46 فی صد امریکہ برآمد کرتا ہے۔

چین، جاپان اور جرمنی کے بعد امریکہ سولر پینل استعمال کرنے والا دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہے۔

امریکہ کی سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ٹیکس نافذ کرنے کے فیصلے سے رواں سال امریکہ میں اس شعبے سے وابستہ 23 ہزار افراد بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکس عائد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ مقامی کارخانے درآمدی سولر پینلز کی قیمتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے کیونکہ بیرونی ملکوں ، خاص طور پر چین سے آنے والے پینلز کی قیمتیں مصنوعی طور پر کم رکھی جاتی ہیں۔ اس وقت چین دنیا میں سولر پینلز بنانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ نئے درآمدی ٹیکس کے نفاذ امریکی مارکیٹ میں اس کی برآمدات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ نئے ٹیکس کے نفاذ سے امریکہ کو کیا فائدہ ہوگا۔ ہائٹ سیکیورٹیز کا کہنا ہے کہ اس وقت لگ بھگ 2 لاکھ 60 ہزار امریکیوں کا روزگار سستے درآمدی سولر پینلز سے وابستہ ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ درآمد میں کمی ان کے روزگار پر کیا اثرات مرتب کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG