رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی وزیرستان: جھڑپ میں دو فوجی، چھ شدت پسند ہلاک


فائل فوٹو

'آئی ایس پی آر' سے جاری ایک بیان کے مطابق حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ سیکورٹی اہلکاروں کی جوابی کاروائی میں چھ شدت پسند مارے گئے۔

افغانستان کی سرحد سے منسلک پاکستان کے علاقے جنوبی وزیرستان میں مبینہ شدت پسندوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان جھڑپ میں دو اہلکار اور چھ حملہ آور ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف علاقے میں جاری آپریشن 'ردالفساد' کے دوران شدت پسندوں نے جنوبی وزیرستان کی تحصیل لدھا کے ایک گاؤں سپینہ میلہ میں سیکورٹی فورسز پر حملہ کیا۔

'آئی ایس پی آر' سے جاری ایک بیان کے مطابق حملے میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے جبکہ سیکورٹی اہلکاروں کی جوابی کاروائی میں چھ شدت پسند مارے گئے۔

قبائلی ذرائع نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ عسکریت پسندوں کے حملے میں سکیورٹی فورسز کے دو جوان زخمی بھی ہوئے ہیں۔

'آئی ایس پی آر' کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کے قبضے سے بھاری مقدار میں جدید اور خودساختہ ہتھیار اور مواصلاتی رابطوں میں استعمال ہونے والے وائرلیس سیٹ بھی برآمد کرلیے گئے ہیں۔

جنوبی وزیرستان کے تحصیل لدھا میں ذرائع ابلاع کے رسائی نہ ہونے کے باعث سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکی ہیں۔

جنوبی وزیرستان میں عسکریت پسندوں کے خلاف 2009ء میں فوج نے راہِ نجات کے نام سے بڑی کاروائی شروع کی تھی جس کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانے تباہ اور ان کو فرار ہونے پر مجبور کردیا گیا تھا۔

تاہم فوجی کاروائی کے دوران نقل مکانی کرنے والوں کی واپسی کا عمل خاصی تاخیر سے شروع ہوا تھا جو اب حکام کے بقول آخری مراحل میں ہے۔

تاہم بار بار کے فوجی آپریشنز کے باوجود جنوبی وزیرستان میں دہشت گردی اور تشدد کے واقعات وقتاً فوقتاً ہوتے رہتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG