رسائی کے لنکس

کابل میں فوجی مرکز پر حملہ، 11 اہلکار ہلاک


کابل کی مارشل فہیم ملٹری اکیڈمی پر حملے کے بعد اکیڈمی کی جانب جانے والی ایک سڑک پر فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے میں کم از کم پانچ شدت پسند ملوث تھے جن میں سے دو سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں جب کہ دو نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک ملٹری اکیڈمی پر شدت پسندوں کے حملے میں کم از کم 11 فوجی اہلکار ہلاک اور 16 زخمی ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق دارالحکومت میں واقع مارشل فہیم اکیڈمی پر حملے کا آغاز پیر کو علی الصباح چار بجے ہوا جو دن نکلنے کےکافی دیر بعد تک جاری رہا۔

افغان وزارتِ دفاع کے ترجمان دولت وزیری کے مطابق حملے کے آغاز پر ایک خود کش حملہ آور نے اس فوجی دستے پر حملہ کیا جو ملٹری اکیڈمی کی حفاظت پر تعینات تھا جس کے بعد حملہ آوروں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان کئی گھنٹوں تک فائرنگ کا تبادلہ ہوتا رہا۔

ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ حملے میں کم از کم پانچ شدت پسند ملوث تھے جن میں سے دو سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے ہیں جب کہ دو نے خود کو دھماکے سے اڑالیا۔

ترجمان کے مطابق سکیورٹی اہلکار ایک حملہ آور کو گرفتار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ سکیورٹی اداروں نے ایک خود کش جیکٹ، کلاشنکوف اور کچھ بارودی مواد بھی اپنے قبضے میں لیا ہے۔

علاقے کے رہائشیوں نے حملے کے دوران کئی زوردار دھماکوں کی آوازیں سننے اور بہت دیر تک فائرنگ جاری رہنے کا دعویٰ کیا ہے۔

حملے کے چند گھنٹے بعد انٹرنیٹ پر جاری کیے جانے والے ایک بیان میں شدت پسند تنظیم داعش کی افغان شاخ نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

افغانستان میں حالیہ چند ماہ کے دوران افغان سکیورٹی فورسز اور سرکاری تنصیبات پر طالبان اور داعش کے حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ہفتے کو ایک طالبان خود کش حملہ آور نے بارود سے بھی ایک ایمبولینس کابل میں ایک مرکزی علاقے میں دھماکے سے اڑادی تھی جس سے 100 سے زائد افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اسے سے قبل طالبان جنگجووں نے گزشتہ ہفتے کے آغاز پر کابل کے ایک معروف فائیو اسٹار ہوٹل پر حملہ کیا تھا جس میں 14 غیر ملکیوں سمیت 22 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حملہ آوروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان مقابلہ 13 گھنٹے تک جاری رہا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG