رسائی کے لنکس

logo-print

صومالیہ: الشباب کے خلاف نئی امریکی فضائی کارروائی


پینٹاگان کے ترجمان نے شدت پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی ہے۔ اُنھوں نے اِن فضائی حملوں کو ’’اپنے دفاع‘‘ کی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے اہداف سے ’’امریکی اہل کاروں کو واضح خطرہ لاحق تھا‘

جنوبی صومالیہ میں الشباب کے شدت پسندوں کے خلاف نئی امریکی فضائی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک ہوئے۔

پینٹاگان کے ترجمان، کیپٹن جیف ڈیوس نے منگل کے روز بتایا کہ پیر اور منگل کی علی الصبح ہونے والی اِن فضائی کارروائیوں میں بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے استعمال ہوئے۔

عینی شاہدین اور اہل کاروں نے ’وائس آف امریکہ‘ کی صومالی سروس کو بتایا کہ فضائی کارروائی میں پانچ شدت پسند اور تین شہری ہلاک ہوئے، جس نے صومالیہ کے زیریں جوبہ کے علاقے میں الشباب کے زیرِ قبضہ گاؤں، یونتو کو ہدف بنایا گیا۔

پینٹاگان کے ترجمان نے شدت پسندوں کی ہلاکتوں کی تعداد 12 بتائی ہے۔ اُنھوں نے اِن فضائی حملوں کو ’’اپنے دفاع‘‘ کی نوعیت کا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے اہداف سے ’’امریکی اہل کاروں کو واضح خطرہ لاحق تھا‘‘۔

فوری طور پر یہ بات واضح نہیں ہوئی آیا الشباب کے سرغنے نشانہ بنے۔ کسمایو میں سکیورٹی سے متعلق ایک اعلیٰ اہل کار نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ اِن فضائی حملوں سے قبل الشباب کے شدت پسندوں کے حلقوں میں ’’بھاگ دوڑ‘‘ کا عمل دیکھا تھا۔

یونتو، کسمایو کے ساحلی شہر کے شمال میں تقریباً 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ الشباب کے شدت پسند اس گاؤں کو ایک چوکی کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے، جہاں سے وہ کسمایو ہوائی اڈے پر توب خانے سے گولے داغا کرتے تھے۔

الشباب کو ہدف بنانے کے لیے امریکہ اکثر و بیشتر ڈرون طیاروں کا استعمال کرتا ہے۔ شدت پسند گروپ کے گروہ کی ایک عرصے تک قیادت کرنے والا احمد عبدی غودانی ستمبر 2014ء میں ہونے والے ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG