رسائی کے لنکس

logo-print

موغا دیشو: فوجی اڈے پرحملہ، ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ


حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، الشباب نے کہا ہے کہ یہ حملہ فوجی اڈے پر ہونے والی کرسمس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا

افریقی یونین کا کہنا ہے کہ الشباب کے آٹھ میں سے تین باقی ماندہ شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جنھوں نے صومالی دارالحکومت، موغادیشو کے فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا۔ اب، ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 14 ہوگئی ہے۔

صومالیہ میں افریقی یونین کا مشن، جسے ’اَنیزوم‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، اُس کے ترجمان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ جمعرات کو مارے گئے چھاپے میں، افریقی یونین کے پانچ امن کار اور ایک غیر ملکی ٹھیکے دار ہلاک ہوئے۔ یہ شہر کا مضبوط ترین قلعہ نما فوجی اڈہ خیال کیا جاتا ہے۔

کرنل علی عدن حمود نے بتایا کہ یہ پتا کرنے کے لیے کہ صومالی فوج کی وردیاں پہنے یہ شدت پسند موغادیشو بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع ’ ہَلانے‘ نامی تنصیب کے اندر کیسے داخل ہوئے، چھان بین کی جارہی ہے۔ اِسی علاقے میں اقوام متحدہ اور متعدد سفارت خانوں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔

کرنل علی عدن حمود کے الفاظ میں، ’ہمارے مربوط اقدام میں یقینی طور پر کچھ تبدیلی ممکن ہے۔‘

غیر ملکی ’کانٹریکٹر‘ کی شناخت اور شہریت کے بارے میں اعلان نہیں کیا گیا۔

اَنیزوم نے جمعرات کے روز بتایا کہ اُس نے فوجی اڈے کا قبضہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے، اور دوپہر کے وقت احاطے پر باغیوں کی اندھادھند فائرنگ کے بعد، عام صورت حال بحال کی جا چکی ہے، ایسے میں جب وہ امن کار مشن تک پہنچنے کی کوشش۔ اِسے ایک انتہائی اہم تنصیب خیال کیا جاتا ہے۔

حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے، الشباب نے کہا ہے کہ یہ حملہ فوجی اڈے پر ہونے والی کرسمس پارٹی کو نشانہ بناتے ہوئے کیا گیا۔

افریقی یونین اور صومالی حکومت کی افواج نے الشباب کو زیادہ تر صومالی شہروں اور قصبوں سے باہر نکال دیا ہے۔ تاہم، القاعدہ سے منسلک یہ گروہ اب بھی وقفے وقفے سے افریقی یونین اور سرکاری اہداف کو خودکش حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔

اِس سال الشبباب کے جنگجوؤں نے متعدد صومالی قانون سازوں کو ہلاک کیا ہے، اور وہ صومالیہ کے صدارتی محل پر دو بڑے حملے کر چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG