رسائی کے لنکس

صومالی وزیر کی ہلاکت کے شبہے میں دو سیکیورٹی اہل کار گرفتار


فائرنگ کے واقعہ میں ہلاک ہونے والے صومالی وزیر عباس عبدالہی شیخ ۔ فائل فوٹو

ملک کے سب سے کم عمر 31 سالہ وزیر ان بہت سے صومالي باشندوں کے لیے عزم و حوصلے کی علامت تھے جو پناہ گزین کیمپوں میں پروان چڑھے ہیں اور ان کی ہلاکت سے انٹرنیٹ پر غم و غصے پر مبنی پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔

صومالي حکومت نے جمعرات کے روز دو سپاہیوں کو شناخت کی غلطی کے مقدمے میں ایک وزیر کو ہلاک کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا۔

صومالیہ کے وزیر اطلاعات نے بتایا کہ پبلک ورکس کے وزیر عباس عبدالہی شیخ سراجی بدھ کے روز اس وقت اپنی کار میں ہلاک ہو گئے تھے جب سیکیورٹی فورس کی گشت پر مامور ایک پارٹی نے دارالحکومت موغادیشو میں ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی ۔

سیکیورٹی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ انہیں یہ شبہ ہوا تھا کہ گاڑی پر عسکریت پسند سوار ہیں۔

ملک کے سب سے کم عمر 31 سالہ وزیر ان بہت سے صومالي باشندوں کے لیے عزم و حوصلے کی علامت تھے جو پناہ گزین کیمپوں میں پروان چڑھے ہیں اور ان کی ہلاکت سے انٹرنیٹ پر غم و غصے پر مبنی پیغامات کا تانتا بندھ گیا۔

صومالیہ کی فوجی عدالت کے ڈپٹی پراسیکیوٹر مبین حسین عبدالحہی نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ آڈیٹر جنرل کے دو محافظ اس وقت موغادیشو کے ایک مرکزی سیل میں ہیں۔

صومالیہ کے صدر محمد عبدالحہی محمد ہمسایہ ملک ایتھوپیا کا دورہ مختصر کر کے وطن واپس پہنچے اور تدفین کی رسومات میں شرکت کی۔

صدر کے دفتر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پبلک ورکس کے وزیر محب وطن تھے اور ان کی قابلیت اور کارکردگی کے سب معترف تھے۔

القاعدہ سے منسلک عسکریت پسند گروپ الشباب، مغربی حمایت یافتہ حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے موغادیشو پر حملے کرتا رہتا ہے۔

صومالیہ سن 1991 سے حالت جنگ میں ہے جب قبائلی جنگی سرداروں نے اس وقت کے ڈکٹیٹر سیاد بری کی حکومت کا خاتمہ کرنے کے بعد ایک دوسرے سے لڑائیوں میں الجھ گئے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG