رسائی کے لنکس

صومالیہ: پارلیمنٹ سے نئی کابینہ کی منظوری


صومالیہ: پارلیمنٹ سے نئی کابینہ کی منظوری
صومالیہ: پارلیمنٹ سے نئی کابینہ کی منظوری

صومالیہ کی پارلیمنٹ نے وزیر اعظم عبد ویلی محمدعلی کی منتخب کردہ نئی کابینہ کی منظوری دے دی ہے۔

صومالیہ کے قانون سازوں نے ہفتے کے روز21 کے مقابلے میں397 ووٹوں سے وزیراعظم کے منتخب کردہ وزیروں کی منظوری دی۔ نئی کابینہ میں 18 وزیر اور نائب وزیر جب کہ نو وزراء مملکت پر شامل ہیں ۔

مسٹر ولی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ نئی حکومت کی توجہ بدعنوانی کے خلاف جنگ اور ملک کی سیکیورٹی کی خراب صورت حال کو بہتر بنانے پر مرکوز ہو گی۔

نئی حکومت ایک ایسے وقت میں برسراقتدار آئی ہے جب ملک کے ایک بڑے حصے پر القاعدہ سے منسلک عسکریت پسندوں کا قبضہ ہے اور حکومت کے کنٹرول میں دارالحکومت موگادیشو کے صرف چند علاقے ہیں۔

اس ہفتے کے شروع میں مسٹر علی نے خواتین کی وزارت سنبھالنے کے لیے جس شخصیت کا چناؤ کیا تھا اسے الشباب کے عسکریت پسندوں نے اغوا کرلیاتھا۔ نئی وزیر عائشہ عثمان عقیل ایک ایسے علاقے میں رہتی ہیں جو عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں ہے۔

وزیر اعظم سمیت صومالیہ کے زیادہ تر وزیر ملک سے باہر پروان چڑھے ہیں۔ مسٹر علی امریکی شہری ہیں اور انہوں نے امریکی یونیورسٹی ہاروڈ سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس سے قبل وہ ریاست نیویارک کی نیاگرا یونیورسٹی میں اکنامکس کے پروفیسر تھے۔

وزیر اعظم نے پچھلے جون میں اپنا عہدہ سنبھالا تھا اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑیں گے اور ملک کے انتظام میں بہتری لائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ قومی مفاہمت کے لیے کام کریں گے اور انسانی بھلائی کی امداد سے منسلک مسائل کو حل کرنے کے اقدامات کریں گے۔

بین الاقوامی امدادی ادارے صومالی راہنماؤں پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ملک کو استحکام کے راستے پر گامزن کرنے کے لیے کام کریں ۔ 1991کے بعد سے صومالیہ میں کوئی مستحکم مرکزی حکومت موجود نہیں ہے۔اور موجودہ حکومت بھی اپنی موجودگی کے لیے زیادہ تر افریقی یونین کے امن کاروں پرانحصار کرتی ہے۔

XS
SM
MD
LG