رسائی کے لنکس

logo-print

شدت پسند وں کی پیش قدمی، صومالیہ کی مدد کے لیے اپیل


باغی عناصر کی طرف سے دارالحکومت موغادیشو پر قبضے کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیشِ نظر حکومتِ صومالیہ نے مزید امداد کی اپیل کی ہے۔

یہ اپیل، شدت پسند گروپ الشباب کی طرف سے مکہ مکرمہ پر قبضہ جمانے کے بعد سامنے آئی ہے، جو ایک اہم سڑک ہے جو حکومت کے کنٹرول والے علاقے سے ملاتی ہے۔

پیر کو پھر سےلڑائی چھِڑجانےسے کم از کم چھ افراد ہلاک اور 16زخمی ہوگئے۔

پیر کے دِن ایک بیان میں صومالی صدر شیخ شریف شیخ احمد نے فوری بین الاقوامی حمایت پر زور دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اکیلے

صومالیہ ، اُن کے بقول ، القاعدہ اور الشباب کے اتحاد سے مقابلہ نہیں کرسکتا۔

موغادیشو میں افریقی یونین کے اندازاً 6000فوجی تعینات ہیں جو حکومت کی مدد کر رہے ہیں جب کہ اُس نے مزید فوج بھیجنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔

ایک ہفتہ قبل الشباب نے حکومت اور افریقی یونین کے فوجیوں کے خلاف نئے حملے کا آغاز کیا تھا۔ ایک حملے میں الشباب کے مسلح افراد نے موغادیشو کے ایک ہوٹل پر حملہ کیا تھا جِس میں 30افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حکومت نے کہا ہے کہ صومالیہ میں قائم الشباب کو ہزاروں غیر ملکی عسکریت پسندوں کی حمایت حاصل ہے۔

گذشتہ ہفتے، امریکہ، ناروے اور پانچ بین الاقوامی تنظیمیں جن میں عرب لیگ اور یورپی یونین شامل ہیں، حکومت کی حمایت میں بیان جاری کر چکے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ باغی کامیاب نہیں ہوسکتے، لیکن محاصرے کی شکار حکومت کے لیے کسی نئی فوجی یا مالی اعانت کا وعدہ نہیں کیا گیا۔

صدر شریف کی انتظامیہ کوماغادیشو کےچند ہی علاقوں پر کنٹرول حاصل ہے جب کہ الشباب اور حزب الاسلام نامی دوسرے اسلامی شدت پسند گروپ کا دارالحکومت اور جنوبی صومالیہ کے بڑے رقبے پر کنٹرول ہے۔

باغیوں نے حکومت کا تختہ الٹنے اور صومالیہ میں اسلامی ریاست قائم کرنےکا اعلان کیا ہوا ہے۔ اِن گروہوں نے پہلے ہی اُن کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں سخت قدامت پسند شریعہ یا اسلامی قانون نافذ کیا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG