رسائی کے لنکس

وزرا کے اقاموں پر تنازع، تحریکِ انصاف عدالت جائے گی


فائل

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے سعودی عرب کا 'اقامہ' یعنی ورک پرمٹ حاصل کیا تھا۔

احسن اقبال پاکستانی کابینہ کے چوتھے وزیر ہیں جن کے بارے میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ان کے پاس کسی خلیجی عرب ملک میں کام کرنے کا پرمٹ تھا۔

کابینہ کے دیگر ارکان میں وزیر اعظم نواز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار شامل ہیں جن کے پاس دبئی کا اقامہ تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے اثاثوں کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا تھا کہ نواز شریف دبئی میں قائم ایک کمپنی ’کیپٹیل ایف زیڈ ای‘ سے تنخواہ لیتے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق احسن اقبال نے مدینہ میں قائم ایک کمپنی سے دو سال کے لیے اقامہ حاصل کیا تھا۔

احسن اقبال نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائی گئی دستاویزات میں بھی اس بات کا ذکر کر چکے ہیں۔

احسن اقبال نے ٹوئٹر پر مزید کہا ہے کہ وہ 2004ء سے 2006ء تک مدینہ میں کام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے یہ اقامہ اس کے بعد بھی اپنے پاس رکھا لیکن اس دوران انہوں نے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کیا بلکہ اسے صرف سفری مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

احسن اقبال کے ایک ترجمان کی طرف سے جاری ایک بیان کے مطابق احسن اقبال اس وقت کسی دوسرے ملک میں کاروبار نہیں کررہے ہیں اور نہ ہی انہوں نے 2013ء کے بعد اپنے اقامے کی تجدید کرائی ہے۔

واضح رہے کہ اسحاق ڈار بھی سپریم کورٹ کے سامنے دبئی میں بطور مشیر کام کرنے کے عوض حاصل ہونے والی رقم کی وضاحت کر چکے ہیں اور خواجہ آصف بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ انہوں نے بھی الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائی گئی دستاویزات میں اپنے اقامے کا ذکر کیا تھا۔

دوسری طرف حزب مخالف کی جماعت تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستان کی وفاقی کابینہ کے بعض ارکان کی طرف سے ملک کے وزیر ہوتے ہوئے بیرون ملک ملازمت کرنے کے معاملے پر کڑی تنقید کی ہے۔

بدھ کی شام اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ "کیا آپ نے کسی جمہوریت میں دیکھا کہ ملک کا وزیر اعظم اقامہ لینے کے بعد سیل مینیجر کے طور پر کام کرے؟"

عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے فیصلہ کیا ہے کہ کابینہ کے اقامہ رکھنے والے تمام وزیروں کے معاملے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پاناما اسکینڈل کے بعد اقامہ اسکینڈل منظر عام پر آیا ہے اور ان کے بقول یہ ایک نا مناسب بات ہے کہ ہمارے حکمران مبینہ طور پر دوہری حیثیت رکھتے ہوئے خلیج کے ملکوں میں چھوٹی موٹی نوکری کرتے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قبل ازیں وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے ایک وضاحتی بیان میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دبئی میں قائم کمپنی ’ایف زیڈ ای‘ کی ملازمت سے متعلق نواز شریف نے حقائق نہیں چھپائے بلکہ اس کی تفصیلات سے الیکشن کمیشن کو بھی آگاہ کیا گیا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG