رسائی کے لنکس

logo-print

افتخار چوہدری کے داماد پراپرٹی اسکینڈل کے الزام پر دبئی میں گرفتار


سابق چیف جسٹس، سپریم کورٹ (فائل)

پاکستان میں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس افتخار چوہدری کے داماد کو پراپرٹی اسکینڈل میں ملوث ہونے پر دبئی میں گرفتار کرلیا گیا ہے، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’’اس معاملے کی تحقیقات ہو رہی ہیں اور اگر سابق چیف جسٹس کا نام آیا تو انہیں بھی گرفتار کیا جا سکتا ہے‘‘۔

لاہور اور ملک کے دیگر حصوں میں قائم کی جانے والی ہاؤسنگ سوسائٹی، ’ایڈن ہاؤسنگ‘ کے مالک اور سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے داماد مرتضیٰ امجد کو دبئی میں ایف آئی اے حکام نے دبئی کے حکام کی مدد سے گرفتار کیا گیا۔

مرتضیٰ امجد پر لاہور سمیت مختلف شہروں میں 12 سے زائد مختلف پراجیکٹس کی رقوم وصول کرنے اور پلاٹ یا گھر فراہم نہ کرنے کا الزام ہے اور اس سلسلے میں نیب نے ان کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔

وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کہتے ہیں کہ ’’ایڈن ہاؤسنگ اسکینڈل میں تفتیش آگے بڑھ رہی ہے‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’کیس میں اگر سابق چیف جسٹس کا نام آگیا تو بچیں گے وہ بھی نہیں‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’افتخار چوہدری اور ان کے بیٹے کا نام اس معاملہ میں آیا تو انہیں گرفتار کیا جائے گا اور یہ پہلا معاملہ ہوگا اور بھی کئی معاملہ ان کے خلاف موجود ہیں‘‘۔

حکومت پر انتقامی کارروائیوں کے الزامات کو فواد چوہدری نے جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا اور کہا کہ ہم صرف پہلے سے قائم کیسز کو دیکھ رہے ہیں۔ اس معاملہ میں دس ہزار سے زائد متاثرین ہیں جنہوں نے وزیر اعظم عمران خان کی لاہور آمد پر ان کے گھر کے باہر مظاہرہ کیا تھا۔ لہٰذا، نیب نے اس پر ایکشن لیا ہے۔

دوسری جانب اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ افتخار چوہدری کے صاحبزادے ارسلان چوہدری کو بھی اس اسکینڈل میں ملوث سمجھا جا رہا ہے اور ان کو بیرون ملک فرار روکنے کیلئے سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کر دی گئی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ ایڈن ہاؤسنگ کے مالک ڈاکٹر امجد تقریباً 20 سال سے پراپرٹی کے شعبے سے منسلک ہیں، ابتدائی طور پر چند اسکیمیں بنائیں جو کامیاب رہیں، اس کے بعد ایک ہی زمین پر کئی اسکیمیں بنا کر فروخت کر ڈالیں اور پلاٹ کے نام پر شہریوں سے رقوم تو وصول کی گئیں، لیکن کوئی زمین فراہم نہ کی گئی، اس گروپ کے 12 ایسے پراجیکٹ ہیں جن کے 10 ہزار سے زائد متاثرین ہیں۔ متاثرین سے ہر ماہ قسط تو وصول کی جاتی رہی مگر جب پلاٹ لینے گئے تو معلوم ہوا کہ زمین کا وجود ہی نہیں۔

سابق چیف جسٹس نے اپنے ایک جاری بیان میں تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ افتخار چوہدری نے کہا ہے کہ ’’جس کمپنی کے متعلق بات کی گئی وہاں میرا داماد کبھی ڈائریکٹر رہا ہی نہیں‘‘۔

گرفتاری کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’’انٹرنیشنل پولیس نے میرے داماد کو حراست میں لیا ہے، گرفتار نہیں کیا۔ یہ سب انتقامی کارروائیاں ہیں‘‘۔

اس کیس میں افتخار چوہدری کی صاحبزادی اور ان کے سمدھی ڈاکٹر امجد بھی نیب کو مطلوب ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG