رسائی کے لنکس

جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مذاکرات کی پیشکش


نائب وزیرِ دفاع نے کہا کہ مذاکرات کی تجویز دینے کا مقصد ان تمام اشتعال انگیز اقدامات روکنے پر تبادلۂ خیال کرنا ہے جن کے نتیجے میں سرحد کی صورتِ حال سخت کشیدہ ہے۔

جنوبی کوریا کی حکومت نے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی کے لیے شمالی کوریا کو دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مذاکرات اور بچھڑے خاندانوں کی ملاقات کرانے کی پیشکش کی ہے۔

جنوبی کوریا کے نائب وزیرِ دفاع سیو جو سیوک نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ان کی وزارت نے دونوں ملکوں کے فوجی حکام کے درمیان 21 جولائی کو شمالی کوریا کے علاقے ٹونگلگاک میں مذاکرات کی تجویز دی ہے۔

نائب وزیرِ دفاع نے کہا کہ مذاکرات کی تجویز دینے کا مقصد ان تمام اشتعال انگیز اقدامات روکنے پر تبادلۂ خیال کرنا ہے جن کے نتیجے میں سرحد کی صورتِ حال سخت کشیدہ ہے۔

ٹونگلگاک دونوں ملکوں کی سرحد کے نزدیک واقع شمالی کوریا کے گاؤں پنموجوم میں واقع ایک سرکاری عمارت ہے جہاں اس سے قبل بھی دونوں ملکوں کے حکام کے درمیان مذاکرات ہوتے رہے ہیں۔

دونوں ملکوں کے حکام کےآخری مذاکرات براہِ راست مذاکرات دسمبر 2015ء میں ہوئے تھے۔

عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کی جنوبی کورین شاخ نے بھی شمالی کوریا کے حکام کو اگست میں مذاکرات کی پیش کی ہے تاکہ 1950ء سے 1953ء کے درمیان ہونے والی جنگِ کوریا کے نتیجے میں تقسیم ہونے والے خاندانوں کی ملاقات کرائی جاسکے۔

ریڈکراس حکام چاہتے ہیں کہ یہ ملاقات اکتوبر میں جزیرہ نما کوریا میں منائے جانے والے چوسیوک کے مقامی تہوار کے موقع پر ہو۔

جنوبی اور شمالی کوریا کے حکام وقتاً فوقتاً ان بچھڑے خاندانوں کی ملاقات کا اہتمام کرتے ہیں۔ صرف جنوبی کوریا میں ان ملاقاتوں میں شرکت کے لیے رجسٹرڈ افراد کی تعداد 60 ہزار ہے جن کی اکثریت عمر رسیدہ افراد پر مشتمل ہے۔

تاہم پیانگ یانگ حکومت نے ان ملاقاتوں کو ایک ریستوران میں کام کرنے والی ان 12 خواتین کی واپسی سے مشروط کردیا ہے جنہوں نے گزشتہ سال شمالی کوریا سے بھاگ کر جنوبی کوریا میں پناہ لے لی تھی۔

مئی میں برسرِ اقتدار آنے والے جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کی حکومت شمالی کوریا کے ساتھ کشیدگی میں کمی کے لیے اب تک مختلف اقدامات تجویز کرچکی ہے جن میں شمالی کوریا کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی، غیر سیاسی وفود کے تبادلے اور دونوں ملکوں کے درمیان اس فوجی ہاٹ لائن کی بحالی کی تجاویز بھی شامل ہیں جسے شمالی کوریا نے گزشتہ سال بند کردیا تھا۔

لیکن شمالی کوریا نے اب تک ان میں سے کسی تجویز کا مثبت جواب نہیں دیا ہے اور اس کی جانب سے میزائل تجربات کا سلسلہ جاری ہے جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG