رسائی کے لنکس

logo-print

جنوبی سوڈان: لڑنے والے دھڑے براہِ راست مذاکرات پر تیار


ایتھیوپیا کی وزراتِ خارجہ کی ترجمان، دینا مفتی نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’افریقی سروس‘ کے لیے انگریزی پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایتھیوپیا میں ہونے والے امن مذاکرات کے ایجنڈا پر دیگر امور کےساتھ ساتھ جنگ بندی کا معاملہ سرِفہرست ہوگا

جنوبی سوڈان کی حکومت اور باغیوں نے منگل کے روز اِس بات سے اتفاق کیا ہے کہ وہ بالمشافہ مذاکرات کا آغاز کریں گے، جب کہ کچھ دِنوں سے، اِن مذاکرات کے خدوخال اور ایجنڈے کے بارے میں اتفاق نہیں ہو پا رہا تھا۔

ایتھیوپیا کی وزراتِ خارجہ کی ترجمان، دینا مفتی نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’افریقی سروس‘ کے لیے انگریزی پروگرام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایتھیوپیا میں ہونے والے امن مذاکرات کے ایجنڈا پر دیگر امور کےساتھ ساتھ جنگ بندی کا معاملہ سرِفہرست ہوگا۔

اُن کے بقول، ’یقینی طور پر، جنگ بندی کا معاملہ ایجنڈے میں سرِ فہرست ہوگا۔ زیرِ حراست افراد کی رہائی کا معاملہ بھی۔ کچھ ایسے افراد ہیں جنھیں حکومت کی طرف سے گرفتار کیا گیا ہے۔ انسانی بنیادوں پر راہداری کی فراہمی بھی شامل ہے، کیونکہ ایک بڑی آبادی نقل مکانی کر چکی ہے۔ اور دیگر متعلقہ معاملات‘۔

حکومت اور باغی دونوں کے مذاکرات کاروں نے بات چیت کے بارے میں توقعات کا اظہار کیا ہے۔

باغیوں کے مذاکرات کار، جنرل تَبنگ ڈینگ گائی نے کہا کہ اُن کا گروپ، جو دراصل ’سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ‘ کا ایک دھڑا ہے، وہ حکومت سے اتفاق نہیں کرتا۔

تاہم، اُنھوں نے کہا کہ مفاہمتی عمل کا حصول ناممکن نہیں ہے۔

دوسری طرف، سوڈان کے صدر، عمر البشیر نے پیر کے روز جنوبی سوڈان کا دورہ کیا، اور اِس بات کا عہد کیا کہ اُن کی حکومت اپنے جنوبی ہمسایہ ملک کے باغیوں کی مدد نہیں کرے گی۔

مسٹر بشیر نے ’گرمجوشی سے خیرمقدم‘ کیے جانے پر، جنوبی سوڈان کے صدر سالوا کیر کا شکریہ ادا کیا، اور مزید کہا کہ سوڈان کسی ہمسایہ حکومت کے خلاف باغیوں کی حمایت نہیں کرے گا۔
XS
SM
MD
LG