رسائی کے لنکس

یہ ساؤتھ آل ہے پیارے

پاکستانی اور بھارتی ریستورانوں سے ہٹ کر یہاں سموسوں، جلیبیوں اور چاٹ وغیرہ کے ساتھ ساتھ، دیسی مشروبات کے کھوکھے بھی موجود ہیں اور مخصوص طرز کی پان کی دکانیں تو عام ہیں

لندن میں مشہور ’ساؤتھ آل‘ کا منظرنامہ یقیناً ایک دلچسپ ماحول پیش کرتا ہے۔ عشروں سے آباد برصغیر کے لوگوں کی وہاں اکثریت ہے، جِن میں بہت سارے لوگوں کا تعلق خاص طور پر سکھ برادری سے ہے۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ پورے کا پورا علاقہ پاکستان یا بھارت کے کسی روایتی شہر کا نقشہ پیش کرتا ہے، اِس لیے کہ وہاں مقیم لوگ اب بھی اپنی ثقافت اور روایات کے ساتھ رہتے ہیں۔

ریستوراں، ملبوسات کی دکانیں، میوزک اور ویڈیوز کے اسٹورز، غرض تمام چیزیں وہاں کے باسیوں کے لیے اپنے وطن کی یاد کا سامان مہیا کرتی ہیں۔

جنوبی ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی۔

پاکستانی اور بھارتی ریستورانوں سے ہٹ کر یہاں سموسوں، جلیبیوں اور چاٹ وغیرہ کے ساتھ ساتھ، دیسی مشروبات کے کھوکھے بھی موجود ہیں اور مخصوص طرز کی پان کی دکانیں تو عام ہیں۔

جدید انداز میں ملبوس نوجوان دیسی لوگوں کے علاوہ بہت سے مرد، عورتیں اور لڑکیاں آپ کو روایتی شلوار قمیض میں بھی نظر آئیں گی۔ بعض عمر رسیدہ خواتین نے ساڑیوں کی روایت کو بھی لندن میں زندہ رکھا ہوا ہے اور زیورات کی بہت ساری دکانیں جنوبی ایشیا کے مخصوص طرزِ زندگی کی یاد دلاتی ہیں۔

زیورات سے آراستہ خواتین بھی اِس علاقے میں آپ کو اکثر نظر آئیں گی۔

جہاں سڑک کنارے جلیبیوں اور سموسے تیار ہوتے اور بکتے دیکھے جاسکتے ہیں، وہیں تھڑوں اور فٹ پاتھوں پر مشہور پاکستانی آم بھی دعوتِ نظارہ دیتے ہیں۔ غرض یہ علاقہ پورے کا پورا بھارت اور پاکستان کے معروف شہروں کا منظر نامہ ہے۔ مختلف اطراف سے اردو، ہندی اور پنجابی بولنے اور اپنی زبانوں میں ایک دوسرے کو مخاطب کرنے کی صدائیں بھی آپ کو متوجہ کرتی ہیں اور ایک طور سے اپنائیت کا إحساس دلاتی ہیں۔

اِس علاقے کے حوالے سے ایک دلچسپ واقعہ عام ہے کہ کسی انگریز نے ساؤتھ آل میں کسی گھر پر دستک دی اور کسی گورے کے بارے میں دریافت کیا۔ ایک سردار جی نے، جو وہاں مقیم تھے، جواب دیا: ’’اِس جگہ کوئی فارینر (غیر ملکی) نہیں رہتا!!‘‘

ایک پاکستانی نژاد خاتون نے دوران گفتگو بتایا کہ لندن کے جنوبی ایشیائی باسیوں کو جب وطن کی یاد ستاتی ہے تو ساؤتھ آل اُن کے لیے گویا اچھی پناہ گاہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اِسی طرح، ایک سردار جی نے جو یہیں پلے بڑھے، گپ شپ میں کچھ ایسا تصور دیا: ’’یہ ساؤتھ آل ہے پیارے، ہماری جان، ہماری شان ہے پیارے‘‘۔

ساؤتھ آل کی چند تصاویر کے لیے کلک کیجئیے (تصاویر بشکریہ صدف وسیم):

لندن: ساؤتھ آل میں واقع ایشیائی مارکیٹ

ساوتھ آل میں واقع ایک گردوارہ
1/16 ساوتھ آل میں واقع ایک گردوارہ
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
ایک سکھ اپنے گھر والوں کے ساتھ
2/16 ایک سکھ اپنے گھر والوں کے ساتھ
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
لندن، ساوتھ آل میں واقع پانجی مٹھائی کی دکان
3/16 لندن، ساوتھ آل میں واقع پانجی مٹھائی کی دکان
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
مسٹر بریانی کی دکان کا ایک منظر
4/16 مسٹر بریانی کی دکان کا ایک منظر
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
جلیبی کی ایک دکان
5/16 جلیبی کی ایک دکان
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
ساؤتھ آل میں واقع کڑھائی گوشت کی ایک دکان کا منظر
6/16 ساؤتھ آل میں واقع کڑھائی گوشت کی ایک دکان کا منظر
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
کپڑوں کی ایک دوکان
7/16 کپڑوں کی ایک دوکان
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
نرالہ مٹھائی کی دکان
8/16 نرالہ مٹھائی کی دکان
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
ایشیائی کھانوں کا ایک مرکز
9/16 ایشیائی کھانوں کا ایک مرکز
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
پاکستانی آموں کا ایک اسٹال
10/16 پاکستانی آموں کا ایک اسٹال
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
نان کی دوکان
11/16 نان کی دوکان
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
پان اور موسیقی کی ایک دوکان
12/16 پان اور موسیقی کی ایک دوکان
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
چاندنی چوک ریستوران کا ایک منظر
13/16 چاندنی چوک ریستوران کا ایک منظر
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
ایک پاکستانی بینک کا منظر
14/16 ایک پاکستانی بینک کا منظر
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
ساوتھ آل میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا
15/16 ساوتھ آل میں واقع اسٹیٹ بینک آف انڈیا
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
ساوتھ آل میں واقع میٹروپولیٹن پولیس کی عمارت
16/16 ساوتھ آل میں واقع میٹروپولیٹن پولیس کی عمارت
جنوب ایشیا کے لوگ جو کسی اور ملک سے لندن کا سفر کرتے ہیں، اُن میں بھی بیشتر ساؤتھ آل ضرور جاتے ہیں، تاکہ لندن جیسے جدید شہر میں اپنے ہی دیس کی روایات کو پردیس میں دیکھ سکیں، یہاں تک کہ میکڈونالڈ کے ریستوراں میں بھی میں نے بالی ووڈ کی موسیقی سنی، جو ایک خوشگوار حیرت تھی
مزید Show less
Previous slide
Next slide

This item is part of
​
XS
SM
MD
LG