رسائی کے لنکس

یمن: علیحدگی پسند عدن میں سرکاری عمارتوں پر قابض


عدن کا نقشہ

یمن کے جنوبی حصے میں سرگرم یہ علیحدگی پسند جنوبی یمن کو دوبارہ الگ مملکت بنانے کے حامی ہیں اور انہیں متحدہ عرب امارات کی حمایت بھی حاصل ہے

یمن کے وزیرِ اعظم احمد بن دغر نے ملک کے جنوبی حصے میں سرگرم ان علیحدگی پسندوں پر حکومت کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کیا ہے جنہوں نے ساحلی شہر عدن میں کئی سرکاری عمارتوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں وزیرِاعظم احمد دغر نے کہا ہے کہ عدن میں قانون کی بالادستی کو چیلنج کیا گیا ہے اور وہاں جو کچھ ہورہا ہے اس سے یمن کی سلامتی، استحکام اور اتحاد خطرے میں پڑگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدن میں علیحدگی پسندوں کی کارروائی صنعا پر قابض حوثی باغیوں سے کسی طور پر مختلف نہیں۔

عدن میں اتوار کو علی الصباح شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم از کم 10 افراد کی ہلاکت اور 85 سے زائد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔

لڑائی کے باعث شہر کا ہوائی اڈہ بھی پروازیوں کے لیے بند کردیا گیا ہے۔

علیحدگی پسندوں نے وزیرِاعظم بن دغر پر بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک ہفتہ قبل ان کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا اور اس مقصد کے لیے صدر عبدربہ منصور ہادی کی حکومت کو سات روز کی مہلت دی تھی۔

صدر کی جانب سے وزیرِاعظم کو برطرف نہ کرنے پر علیحدگی پسندوں نے اتوار کو عدن میں حکومت مخالف مظاہروں کی کال دی تھی جنہیں روکنے کے لیے صدر ہادی نے صدارتی محافظ دستوں کو شہر میں تعینات کردیا تھا۔

صدر کے محافظ دستوں اور علیحدگی پسندوں کی حامی سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعددونوں فورسز میں شہر کے مختلف مقامات پر جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں جو اتوار کو پورا دن جاری رہیں۔

جھڑپوں اور سرکاری عمارتوں پر علیحدگی پسند جنگجووں کے قبضے کے بعد اطلاعات ہیں کہ صدر ہادی نے اپنی فورسز کو واپس بیرکوں میں جانے کا حکم دے دیا ہے جس کے بعد شہر میں لڑائی عارضی طور پر رک گئی ہے۔

یمن کے جنوبی حصے میں سرگرم یہ علیحدگی پسند جنوبی یمن کو دوبارہ الگ مملکت بنانے کے حامی ہیں اور انہیں متحدہ عرب امارات کی حمایت بھی حاصل ہے جو ان جنگجووں کو حوثی باغیوں کے خلاف ہتھیار اور تربیت دیتا رہا ہے۔

شمالی اور جنوبی یمن کئی دہائیوں تک الگ الگ ملک رہنے کے بعد مئی 1990ء میں ایک دوسرے میں ضم ہوگئے تھے جس کے نتیجے عوامی جمہوریہ یمن کا قیام عمل میں آیا تھا۔

لیکن حالیہ خانہ جنگی کے بعد سے جنوبی یمن میں ایک بار پھر علیحدگی کی تحریک زور پکڑ گئی ہے اور بعض حلقے متحدہ عرب امارات پر اس تحریک کو ہوا دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔

یمن میں 2014ء میں حوثی باغیوں کی بغاوت اور دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد سے ملک میں خانہ جنگی جاری ہے جس میں اب تک 10 ہزار سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں۔

صنعا پر باغیوں کے قبضے کے بعد سے صدر ہادی کی حکومت نے عدن کو اپنا عبوری دارالحکومت بنایا ہوا ہے۔

XS
SM
MD
LG