رسائی کے لنکس

logo-print

آنگ سان سوچی کا عروج و زوال؟


توقعات تھیں کہ وہ اپنے ملک کی آزادی اور استحکام کا باعث بنیں گی۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا۔ تین برس بعد، آج آنگ سان سوچی تنہا ہیں اور ناقدین اُن سے ناخوش ہی نہیں سخت خفا ہیں۔

ایک وقت تھا کہ ہر طرف اُنہی کا شہرہ تھا۔ اور وہ ایک عالمی ہیرو کے رتبے پر فائز تھیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آج اُن کی ساکھ کو چاند گرہن لگ چکی ہے؟ ایسا کیونکر ہوا؟

اُنھیں ’نوبیل پرائز‘ دیا گیا تھا، چونکہ وہ میانمار کی فوجی جنتا کے سامنے ایک پختہ چٹان کی طرح کھڑی تھیں۔ اُن کی شخصیت دیو مالائی داستان کی سی تھی۔ کئی برسوں کی نظربندی کے بعد اُنھیں 2010ء میں رہائی ملی تھی۔ دنیا معترف تھی کہ سوچی ایک پُرعزم اور ناقابلِ شکست سیاست دان ہیں۔

پھر دیکھتے ہی دیکھتے، سال 2015ء کے انتخابات میں وہ بھاری اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئیں اور اقتدار میں آئیں۔

توقعات تھیں کہ وہ اپنے ملک کی آزادی اور استحکام کا باعث بنیں گی۔

لیکن، ایسا نہیں ہوا۔ تین برس بعد، آج آنگ سان سوچی تنہا ہیں اور ناقدین اُن سے ناخوش ہی نہیں سخت خفا ہیں۔

اقوام متحدہ نے میانمار کی فوج پر الزام دیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ’’نسلی کشی‘‘ کی کارروائی میں ملوث ہے؛ جب کہ سوچی کی حکومت نے اس سنگ دلی کو روکنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔

وہ اخلاقی بلندی کے جس مقام پر فائز تھیں، اُس مرتبے سے گر چکی ہیں، چونکہ مظلوموں کا ساتھ دینے میں ناکامی پر اُن کی مذمت کی جا رہی ہے۔

اس بات کا پتا لگانے کے لیے کہ عظمت کے عالمی مقام سے نیچے گرنے کی کیا وجہ ہوسکتی ہے، ’رائٹرز‘ کی ایک ٹیم نے سوچی کے احباب، مشیروں، سفارت کاروں اور طویل مدت کے شناسا ساتھیوں سے رابطہ کیا۔ اُنھوں نے بحیثیت ایک سیاستدان اُن کے طرز عمل پر روشنی ڈالی کہ وہ بااصول اور جان نثار شخصیت کی مالک رہی ہیں؛ جن کی ذات کے جھول ابھر کر سامنے آگئے ہیں اور وہ تنہا ہوچکی ہیں۔ ساتھ ہی، اُن کے اختیارات محدود ہیں جب کہ اُن سے متعلق توقعات دم توڑ چکی ہیں۔

چند ناقدین اب بھی یہی کہتے ہیں کہ وہ نسلی اقلیتوں کی حامی رہی ہیں، تاہم اُنھوں نے روہنگیاؤں کے خلاف جاری مظالم کی سطح کا کھوج لگانے میں سستی برتی ہے، یا پھر اِس کے بارے میں اُنھیں دانستہ طور پر بے خبر رکھا گیا۔

دیگر کا کہنا ہے وہ فوج کے جرائم کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ اسی وجہ سے وہ بین الاقوامی برادری کی نگاہوں میں گر چکی ہیں۔ حالانکہ یہی وقت تھا جب ایک مؤثر رہنما کے طور پر دنیا کو اُن کی جانب دیکھ رہی تھی۔

ساتھ ہی، ’رائٹرز‘ کی ٹیم نے واضح کیا کہ سوچی سے متعلق ایک سوالنامہ بھیجا گیا تھا، جس کا اُن کے ترجمان نے جواب دینا پسند نہیں کیا۔

معاملہ یہاں تک پہنچ چکا ہے کہ سوچی نے اپنی ایک دوست، این پاسترنک سلیٹر سے پوچھا: ’’آخر کیا وجہ ہے کہ لوگ نفرت کرنے لگے ہیں؟‘‘۔ این نے سوچی سے نومبر، 2017ء میں ملاقات کی تھی۔ اُس وقت این کے ذہن میں یہی آیاتھا کہ سوچی روہنگیا کے خلاف جاری تشدد کی کارروائیوں کے بارے میں پوچھ رہی ہیں۔

لیکن، بعدازاں، این پر یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ دراصل سوچی اپنے ہی بارے میں پوچھ رہی تھیں کہ ’’آخر سب لوگ میرے خلاف کیوں اٹھ کھڑے ہوئے ہیں؟‘‘

آپ تاریخی منظرنامے سے بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں، جس میں ’رائٹرز‘ نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ سوچی اور مسائل کی شکار اُن کی قوم کس دوراہے پر کھڑی ہے۔

آنگ سان سوچی 1945ء میں پیدا ہوئیں۔ وہ میانمار کی جنگ آزادی کے ہیرو اور جدید فوج کے بانی، جنرل آنگ سان کی بیٹی ہیں۔ اُن کے والد کو اُس وقت قتل کیا گیا جب وہ محض دو برس کی تھیں۔ سوچی نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی؛ جہاں اُن کی برطانوی دانشور، مائیکل ایریس سے شادی ہوئی۔ اُن کے دو بیٹے ہیں۔

وہ سال 1988 میں برما واپس آتی ہیں، اور اپنی بیمار ماں کی تیمار داری کو ترجیح دیتی ہیں۔

سال 1988میں ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے ہوتے ہیں۔ تب فوجی جنتا نے اُنھیں نظربند کیا، جنھیں کسی سے ملنے کیا اجازت نہیں ہوا کرتی تھی۔ اُن کے مضامین اور خطوط کی بنیاد پر سال 1991ء میں سوچی کو امن کا ’نوبیل پرائز‘ دیا گیا؛ جس کے بعد عالمی سطح پر اُن کا قد کاٹھ نیلسن منڈیلا اور دلائی لاما کی طرح بلند ہوا۔

اپنے مداحوں کی نظر میں، سوچی ہی میانمار کی آمریت کو ختم کر سکتی تھیں۔ سال 2000 میں اُنھیں پھر گرفتار کیا گیا اور 19 ماہ تک نظربند رہیں۔ 2003میں اُنھیں رہا کیا گیا۔

آنگ سان سوچی جس مکان میں رہتی تھیں وہ خستہ حال تھا۔ گھر کی ٹپکتی چھت کو 2010ء میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ تب تک وہ جمہوری تحریک کی علامت بن چکی تھیں۔ 2010ء میں وہ منتخب ہو کر پارلیمان میں پہنچیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG