رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا: تحفظ جنگلی حیات کا افسر ہاتھی کے بچوں کی اسمگلنگ میں ملوث


ہاتھی کا بچہ اپنے والدین کے ساتھ جرمنی کے ایک چڑیا گھر میں۔ فائل فوٹو

سری لنکا نے جنگلی حیات کے تحفظ کے ادارے کے ایک اعلیٰ عہدے دار سمیت آٹھ افراد کے خلاف ہاتھیوں کے بچے پکڑ کر انہیں اسمگل کرنے کا مقدمہ قائم کیا ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ افراد نے ہاتھیوں کے درجنوں بچوں کو ان امیروں کے پاس فروخت کیا جو اپنی شان و شوکت کے لیے ہاتھی رکھنا چاہتے تھے۔

جنگلی حیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ 10 سال کے عرصے میں ہاتھیوں کے تقریباً 40 بچوں کو پکڑا گیا اور ان میں سے ہر ایک کو لگ بھگ سوا لاکھ ڈالر میں بیچ دیا گیا۔

حکومت کے اٹارنی نیشارا جے ارانتے نے کہا ہے کہ تحفظ جنگلی حیات کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر اوپالی پاتھما سری اور سات دوسرے افراد کے خلاف سن 2014 اور 2015 کے دوران ہاتھی کے بچے پکڑنے اور انہیں اسمگل کرنے کے 33 واقعات کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ہمارے ملک کی تاریخ کا ہاتھیوں کی اسمگلنگ کا پہلا واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرم ثابت ہونے پر انہیں 20 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

ہاتھیوں کے بچوں کی اسمگلنگ کا سلسلہ جنوری 2015 میں موجودہ حکومت کے قیام کے بعد شروع کی جانے والی پکڑ دھکڑ کے بعد رک گیا۔ اور اس دوران بازیاب کرائے گئے ہاتھیوں کے بچوں کو ان کی محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کر دیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بے تحاشہ دولت رکھنے والے افراد امارت کی علامت کے طور پر اپنے گھر میں ہاتھی کا بچہ پالتے ہیں۔

سری لنکا کی ایک روایت کے مطابق امرا جانور پالتے ہیں اور بودھ مذہبی تقریبات میں ان کی نمائش کرتے ہیں۔

ہاتھیوں کے بچوں کی اسمگلنگ سے ان کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ تحفظ جنگلی حیات کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ہاتھیوں کی تعداد میں کمی کی ایک وجہ یہ ہے کہ شکاری ہاتھی کا بچہ پکڑنے کے لیے اکثر اوقات اس کی ماں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔

تاہم ہاتھی بھی بعض اوقات اشتعال میں آ کر انسانوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ سری لنکا کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران ہاتھیوں کی پناہ گاہوں کے قریبی علاقوں میں لگ بھگ 375 افراد ہاتھیوں نے مار ڈالے۔ جب کہ اس کے بدلے میں دیہاتیوں نے اشتعال میں تقریباً 1200 ہاتھی ہلاک کر دیے۔

سری لنکا میں ہاتھیوں کی تعداد کا اندازہ 7500 لگایا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG