رسائی کے لنکس

logo-print

کیری کا 'جمہوری اصلاحات پر گامزن'، سری لنکا کی حمایت کا عزم


'جمہوریت کو بحال کرنے کےآپ کے سفر میں، امریکی عوام آپ کے ساتھ ہے'۔۔۔ کیری نے ہفتے کو صدر ماتھری پالا سیری سینا؛ وزیر اعظم رانیل وکریمی سنگھے اور وزیر خارجہ منگلا سمارا ویرا سے ملاقات کی۔ اتوار کے روز وہ تامل اقلیتی لیڈروں سے ملیں گے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سری لنکا کی نئی حکومت کی جانب سے جمہوری اصلاحات کی راہ اپنانے کی تعریف کرتے ہوئے، بحیرہ ہند کے ساحل پر آباد حکمت عملی کے حامل ملک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا عہد کیا ہے۔

ایک عشرے کے بعد یہ کسی اعلیٰ ترین امریکی سفارت کار کا سری لنکا کا پہلا دورہ ہے۔

ہفتے کے روز، اپنے کلمات میں، کیری نے کہا کہ 'جمہوریت کو بحال کرنے کےآپ کے سفر میں، امریکی عوام آپ کے ساتھ ہے'۔

کیری نے صدر ماتھری پالا سیری سینا؛ وزیر اعظم رانیل وکریمی سنگھے اور وزیر خارجہ منگلا سمارا ویرا سے ملاقات کی۔ اتوار کے روز وہ تامل اقلیت کے لیڈروں سے ملنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سری لنکا کی حکومت نے عزم کر رکھا ہے کہ وہ کئی برسوں سے جاری الگ تھلگ رہنے کی پالیسی ترک کردے گی، جس کا سبب تامل علیحدگی پسندوں کے ساتھ طویل مدت سے جاری لڑائی رہا ہے۔ اس لیے، آج کیری کا فقیدالمثال گرمجوشی سے خیرمقدم کیا گیا۔

جب وہ وزارت خارجہ کے دفاتر میں داخل ہوئے تو سرخ غالیچہ بچھایا گیا تھا؛ اُن کی قدآور تصویر آویزاں تھی اور موسیقار، گلوکار موجود تھےاور ڈھول کی تھاپ پر رقص و سرود پر اُنھیں گرمجوشی سے خوش آمدید کہا گیا۔

کیری نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ اپنی ساجھے داری کو وسیع تر اور تعلقات کو گہرا کرنے کے متمنی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ دونوں ملک سالانہ پارٹنرشپ ڈائلاگ کا آغاز کریں گے اور یہ کہ وسع تر امور میں امریکی اہل کار سری لنکا کو تکنیکی اعانت فراہم کریں گے، جس میں انسداد بدعنوانی کی کوششیں اور چرائے گئے قومی اثاثوں کی واپسی کا معاملہ شامل ہے۔

سمارا ویرا نے کہا کہ 'کیری کے دورے کی اہمیت یہ ہے کہ ہمارا چھوٹا سا جزیرہ نما ملک بین الاقوامی امور کی مرکزی سطح پر ابھر کر سامنے آئے گا'۔

اُنھوں نے کہا کہ 'بہت جلد سری لنکا مکمل پارلیمانی جمہوریت اور سرمایہ کاری کی جنت کا روپ دھار لے گا'۔

اس سے قبل سنہ 2005 کے اوائل میں، بحیرہ ہند میں آنے والی سونامی کے بعد، سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاویل آخری اعلیٰ امریکی سفارت کار تھے جنھوں نے سری لنکا کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد سری لنکا کی حکومت اور تامل ٹائگر باغیوں کے درمیان لڑائی میں تیزی آئی۔ تامل ایک آزاد ملک کے قیام کے لیے لڑتے رہے ہیں۔ فوج نے سنہ 2009 میں اُنھیں ختم کردیا تھا، جس حتمی کارروائی میں لاکھوں لوگ ہلاک ہوئے، جب کہ دونوں فریق نے ایک دوسرے کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے۔

اُس وقت مہندرا راجا پکسا صدر تھے، جنھوں نے اقتدار پر اپنی گرفت تیز کی، جس دوران جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کمزور ہوئی اور بین الاقوامی طور پر سری لنکا کا وقار مجروح ہوا۔

تاہم، جنوری میں، سیری سینا نے صدارتی انتخاب میں، راجا پکسا کو کانٹے کے مقابلے میں شکست دی، اور بعدازاں، اس بات کا عہد کیا کہ نظام میں مکمل اصلاحات لائی جائیں گی، جو عام خیال کے مطابق، مطلق العنان نظام تھا، جس میں اقلیتوں کو دقتیں درپیش تھیں۔

سنہ 2013ء میں سری لینکا کے لیے امریکی برآمدات 31 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھیں؛ جب کہ اُسی سال سری لنکا نے امریکہ کو 2.5 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں۔

XS
SM
MD
LG