رسائی کے لنکس

سری لنکا کے انوکھے لاڈلوں کی انوکھی شادی


دنیا کے طویل ترین عروسی لباس میں ملبوس دلہن، اپنے دلہا کے ساتھ سری لنکا کے سنٹرل صوبے کے مرکزی شہر کنیڈی کی ایک اہم شاہرہ پر۔۔ 20 ستمبر 2017

سری لنکا میں حال ہی میں ایک ایسی شادی دیکھنے میں آئی جس کی نظیر دنیا بھر میں شاہد ہی کہیں اور مل سکے۔

یہ ایک امیر کبیر خاندان کی شادی کی تقریب تھی جس میں سری لنکا کے مرکزی صوبے کے وزیر اعلیٰ سارتھ ایکانایا کے بھی مہمان خصوصي کے طور پر شریک تھے۔

شادی کا نمایاں پہلو دلہن کا عروسی جوڑا تھا جس کا پچھلا حصہ تقریباً دو میل لمبا تھا۔

مغربی دنیا میں دلہنیں عموماً ایسا عروسی جوڑا پہنتی ہیں جس کا پچھلا حصہ اتنا لمبا ہوتا ہے کہ وہ فرش پر گھسیٹ رہا ہوتا ہے اور دلہن کے لیے اسے سنبھالنا اور چلنا مشکل ہوتا ہے۔ چنانچہ دو بچیاں لباس کے اس حصے کو اٹھا کر دلہن کے پیچھے پیچھے چلتی ہیں۔

امارت اور شاہی آداب کی یہ روایت بہت قدیم ہے۔ پرانے زمانے میں تقربیات میں ملکہ اور شہزادیاں بھی کچھ ایسا ہی لباس پہنتی تھیں، جنہیں کنیزیں اٹھائے پیچھے پیچھے چلتی تھیں۔

سری لنکا کی شادی کا قصہ صرف دلہن کے عروسی لباس پر ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ کہانی کہیں زیادہ دلچسپ اور حیران کن انداز میں آگے بڑھتی ہے۔

خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ دلہن کا عروسی لباس کامدار ساڑھی پر مشتمل تھا جس کے ایک پلو کی لمبائی دو میل کے لگ بھگ تھی۔ دلہا کے ساتھ چلنے کے لیے ضروری تھا کہ کوئی دلہن کے عروسی لباس کا طویل پلو اٹھا کر پیچھے پیچھے چلے۔

سکول کی 250 بچیوں نے عروسی لباس آخری حصہ تھام رکھا ہے۔
سکول کی 250 بچیوں نے عروسی لباس آخری حصہ تھام رکھا ہے۔

اس عروسی چہل قدمی کے لیے سفید یونیفارم میں ملبوس 250 بچیوں کا انتظام کیا گیا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ سفید یونیفارم کیوں؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ جس اسکول سے بچیاں لائی گئی تھیں وہاں کی یونیفارم سفید ہے۔

بچیاں صبح گھر سے پڑھنے کے لیے نکلی تھیں ۔ انہیں کیا خبر تھی کہ انہیں دلہن کا پلو اٹھانے کے لیے طلب کر لیا جائے گا۔ اس تقریب کی چند ویڈیوز اور تصویریں انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں بچیوں کے چہروں پر پھیلی ہوئی حیرت اور پریشانی دیکھی جا سکتی ہے۔

بات صر ف پلو اٹھا کر خادماؤں کی طرح دلہن کے پیچھے چلنے تک ہی محدود نہیں ہے۔ بلکہ دلہن اور دلہا پر پھول نچھاور کرنے کے لیے اسی اسکول سے مزید ایک سو بچیاں لائی گئیں۔

اس روز اسکول میں پڑھا ئی نہیں ہوئی، صرف دلہا دلہن کا کھیل کھیلا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ شادی سری لنکا کے سنٹرل صوبے کے مرکزی شہر کنیڈی میں ہوئی۔ شادی کا جلوس شہر کی مرکزی شاہرہ پر نکالا گیا۔ جس کے لیے یقینی طور پر ٹریفک روکنا پڑی ہوگی یا اس کا روٹ بدل دیا گیا ہو گا۔ کیونکہ صوبے کے وزیر اعلیٰ ٰ اس تقریب میں خصوصي طور پر شریک ہوئے۔ وہ کوئی ایسے ویسے وزیر اعلیٰ نہیں ہیں۔ سن 2004 سے مسلسل وزیر اعلیٰ چلے آ رہے ہیں۔

اس شادی کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس سکول سے 350 تین بچیاں سے لائی گئی تھیں، اس کا نام بھی وزیر اعلیٰ کے نام پر ہے اور اس کا سنگ بنیاد بھی یقیناً انہوں نے ہی رکھا ہو گا۔

مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ سری لنکا میں اتنے بڑے عروسی لباس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں ہے۔ یہ ایک نیا ریکارڈ ہے جسے گینیز بل آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا جانا چاہیے۔

شادی کی تقریب کے بعد دلہا دلہن اور مہمان رخصت ہو گئے۔ سکول سے لائی گئی بچیاں بھی کسی یہ کسی طرح اپنے گھروں کو چلی گئیں۔ لیکن یہ کہانی ابھی جاری ہے۔

سری لنکا میں بچوں کے تحفظ کے قومی ادارے این سی پی اے نے کہا ہے کہ انہیں اس تقریب میں سکول کی بچیوں کو دلہن کی ساڑھی کا پلو اٹھانے اوراس پر پھول نچھاور کرنے کے لیے لائے جانے پر تشویش ہے اور وہ اس واقعہ کی چھان بین کر رہا ہے۔

ادارے کے چیئر میں مارینی ڈی لیورا نے میڈیا سے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ اپنی گھریلو تقربیات کے لیے بچوں کو سکول سے لانا ایک رجحان بن جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسکول کے وقت بچوں کو اس طرح کی تقربیات کے لیے اٹھا کر لے جانا خلاف قانون ہے۔ اور اس جرم کی سزا 10 سال قید ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ شادی کی تقریب کا انتظام کرنے والوں نے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، ان کی پڑھا ئی میں مداخلت کی، ان کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالا اور ان کی عزت نفس کو مجروع کیا۔

بچوں کے حقوق کا ادارہ اس سلسلے میں کیا اقدامات کرتا ہے، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ اس وقت یہ انوکھی شادی سری لنکا میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں گفتگو کا موضوع بنی ہوئی ہے اور اس کی ویڈیو اور تصویریں وائرل ہو نے کو ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG