رسائی کے لنکس

logo-print

سری لنکا: صدارتی انتخابات، پاکسا تیسری مدت کے لیے پُرامید


صدر راجاپاکسا نے جمعرات کو اپنے حلقے میں ووٹ ڈالتے وقت کہا کہ انھیں یقین ہے کہ اُن کو ملک کی قیادت کا تیسری بار موقعہ دیا جائے گا۔۔۔ ادھر، محکمہٴ خارجہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ووٹوں کی گنتی میں شفافیت اور منصفانہ ہونے کو یقینی بنایا جائے

سری لنکا میں لاکھوں ووٹر جمعرات کو صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالے جس میں موجودہ صدر مہندا راجاپاکسا اور ان کے ایک سابق اتحادی کے درمیان غیر متوقع طور پر سخت مقابلہ ہے۔

راجاپاکسا جو 2005 سے اقتدار میں ہیں، نے یہ انتخابات مقررہ وقت سے دو سال پہلے کروانے کا اعلان کیا تھا جس کے بارے میں مبصرین کا کہنا تھا کہ وہ آسانی سے جیت جائیں گے۔

اگرچہ ان کی حمایت میں کمی آئی ہے تاہم راجاپاکسا کا خیال تھا کہ ہمیشہ سے منقسم حزب اختلاف ان کے خلاف ایک معتبر امیدوار کا چناؤ کرنے میں ناکام ہو جائے گی۔

انہوں نے یہ پیش بینی نہیں کی تھی کہ متھریپالا سریی سینا ان کے مقابلے میں کھڑے ہوں گے، جو بطور وزیر صحت اپنے عہدے سے استعفی ٰ دے کر نومبر میں حزب مخالف کے امیدوار بن گئے۔

اس وجہ سے کئی ایک دوسرے لوگ بھی حکومت سے الگ ہوگئے۔

راجاپاکسا نے جمعرات کو اپنے حلقے میں ووٹ ڈالتے وقت کہا کہ انھیں یقین ہے کہ ان کو ملک کی قیادت کرنے کا تیسری بار موقع دیا جائے گا۔

ادھر واشنگٹن میں، محکمہٴخارجہ نے ووٹنگ میں لوگوں کی بڑھ چڑھ کے شرکت کی اطلاعات کو ’حوصلہ بڑھانے والی بات‘ قرار دیا ہے۔

ترجمان نے، جعمرات کو روزانہ بریفنگ کے دوران ایک سوال پر بتایا کہ انتخابی مبصرین سری لنکا کے صدارتی انتخابات میں جائزہ کاری کا اہم کردار بجا لائے ہیں۔

پُرامن انتخابات کرانے کے حوالے سے، امریکہ نے سری لنکا کے انتخابی کمیشن، پولیس اور افواج کے کردار کو سراہا ہے۔

ساتھ ہی، ترجمان نے کہا کہ،’ہم حکومت سری لنکا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ووٹوں کی گنتی کے کام میں شفافیت اور اس کے قابل اعتماد ہونے، اور الیکشن میں دھاندلی یا تشدد کے واقعات کی چھان بین کو یقینی بنایا جائے‘۔

جین ساکی نے کہا ہے کہ امریکہ نےصدارتی انتخابات کی جائزہ کاری کے لیے مبصر سری لنکا نہیں بھیجے تھے، جب کہ کامن ویلتھ، سارک اور آزادانہ اور منصفانہ انتخابات سے متعلق ایشیائی نیٹ ورک نے مجموعی طور پر 84 لے لگ بھگ بین الاقوامی مبصرین روانہ کیے تھے۔

بدھ کو امریکی وزیرخارجہ جان کیری نے انتخابات سے پہلے بدھ کو راجاپاکسا سے فون پر بات کی تھی۔ ایک ترجمان کے مطابق کیر ی نے سری لنکا کی حکومت پر زور دیا کہ "وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ 8 جنوری کو ہونے والے انتخابات تشدد اور جبر سے پاک ہوں گے اور ووٹوں کی گنتی صاف و شفاف ہو گی۔"

XS
SM
MD
LG