رسائی کے لنکس

logo-print

بھارتی حکومت پر کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی تذلیل کا الزام


شیخ عبداللہ

بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ پر ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور ہم خیال سیاسی تنظیموں کی طرف سے ایسی سرکاری تعمیرات اور اداروں کے نام بدلنے کے لیے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے جنہیں متنازع ریاست کے سیاسی منظر نامے پر نصف صدی تک حاوی رہنے والے کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ سے منسوب کیا گیا ہے۔

کشمیر کے اس قداور سیاستدان کو بھارت اور اس کے باہر ریاست کے بھارت کے ساتھ الحاق کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ شیخ عبداللہ نے اکتوبر 1947 میں مطلق العنان ڈوگرہ مہاراجہ ہری سنگھ کی طرف سے جموں و کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے کے فیصلے کی تائید کی تھی۔

شیخ عبداللہ نے دو قومی نظریے کو مسترد کیا تھا

یہ شیخ عبداللہ ہی تھے جنہوں نے 1939 میں کشمیر کی سب سے پرانی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کا نام بدل کر نیشنل کانفرنس رکھنے میں پہل کی تھی اور کہا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد اسے وسیع اور روادار بنا کر اس میں غیر مسلموں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے سیکولر بھارت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کو ترجیح دی تھی اور باوجود اس کے کہ جموں و کشمیر میں مسلمان اکثریت میں آباد ہیں ریاست کو پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ جوڑنے کے لیے راہ ہموار کرنے میں کلیدی رول ادا کیا۔

کشمیر کی تاریخ اور سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ ریاست کو بھارت کا حصہ بنانے اور سرینگر اور نئی دہلی کے درمیان رشتے استوار کرنے کے لیے شیخ عبداللہ کی طرف سے ادا کیے گیے اس اہم اور بنیادی کردار کا ماضی میں بھارتی حکمرانوں نے زبانی طور پر تو اعتراف کیا۔ لیکن، اس سلسلے میں عملاً کوئی کام نہیں کیا۔

مثال کے طور پر بھارت کے دارالحکومت دِلّی میں کسی سڑک، گلی، چوراہے، عمارت، بستی یا باغیچے کو شیخ عبداللہ کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ دِلّی ایک ایسی جگہ ہے جہاں کی سڑکوں اور چوراہوں کے نام تحریکِ آزادی کے ساتھ بالواسطہ اور بلا واسطہ جڑے ملک کے کئی چھوٹے بڑے لیڈروں کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ایک عسکری کمانڈر احمد شاہ مسعود، یورو گوائے کے قومی ہیرو جوز ارٹیگس، قزاق شاعر ابھیے کننبائلو، آئرش لیڈر ایمون ڈی ولیرا، ناول نگار انڈرے مالرکس اور ارجنٹائین کے جوز سین مارٹن جیسی شخصیات کی یاد میں رکھے گیے ہیں۔

مصنف اور کالم نگار بشیر احمد بٹ کہتے ہیں "اتنا ہی نہیں شیخ صاحب کے جونئیر ساتھیوں غلام محمد صادق اور سید میر قاسم کو بھارت کے دوسرے بڑے قومی اعزاز پدم وِبھوشن سے نوازا گیا اور حال ہی میں ایک سابق نائب وزیرِ اعلیٰ مظفر حسین بیگ کو تیسرا بڑا قومی اعزاز پدم بھوش دیا گیا۔ لیکن، شیخ صاحب کو پدم شری (نسبتاً چھوٹا ایوارڈ) بھی نہیں ملا۔ یہ ایک المیہ ہے بس"-

کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ قریبی تعلق

شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کی طرف سے بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کے اقدام کے بعد پہلے ریاست کے منتظمِ اعلیٰ اور پھر وزیر اعظم کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ وہ ریاست کے دو بار وزیرِ اعلیٰ بھی بنے۔ وہ پنڈت جواہر لال نہرو کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے اور ان کے خان عبد الغفار خان جیسے کانگریس کے چوٹی کے لیڈروں کے ساتھ گہرے مراسم تھے۔

مورخ ڈاکٹر عبدالاحد کا کہنا ہے "دِلّی کو چھوڑ دیجیے اب خود جموں و کشمیر میں ان عمارتوں، سڑکوں اور دوسری تعمیرات کے نام بدلنے کے لیے پر تولے جا رہے ہیں جنہیں شیح عبداللہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ یہ طغیرِ زمانہ اور بدلتے حالات کی رنجیدہ عکاسی ہی نہیں کرتا، بلکہ عبرت دلانے والا معاملہ بھی ہے"۔

شیخ عبداللہ شیرِ کشمیر' کیوں کہلائے

شیخ عبداللہ کو 'شیرِ کشمیر' کے نام بھی جانا جاتا ہے۔ انہیں یہ خطاب شخصی راج کے خلاف بے جگری کے ساتھ لڑنے کے اعتراف میں ملا تھا۔ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی انتظامیہ نے 25 جنوری کو یعنی بھارت کے یومِ جمہوریہ سے ایک دن پہلے ان کے نام سے منسوب 'شیرِ کشمیر پولیس بہادری میڈل' اور 'شیرِ کشمیر میڈل برائے مستحسن خدمت' اعزازات کے اسلوب بدل کر ان سے 'شیرِ کشمیر' کے الفاظ حذف کیے۔ اس سلسسلے میں محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکریٹری شالین کابرا نے ایک باضابطہ حکم نامہ بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ یہ اعزازات اب بالترتیب 'جموں و کشمیر پولیس میڈل برائے شجاعت' اور ’جموں و کشمیر میڈل برائے مستحسن خدمت' کہلائیں گے۔

یومِ پیدائش پر چھٹی کی منسوخی

دسمبر 2019 کے آخری ہفتے میں بھارتی زیرِ انتظام کشمیر کی حکومت نے سال 2020 کے لیے جو کلینڈر جاری کردیا تھا اُس میں 5 دسمبر کو شیخ عبداللہ کے یومِ پیدائش کی چھٹی کو منسوخ کیا گیا۔

حکومت نے ایک اور متنازع فیصلے کے تحت شہدائے کشمیر کی یاد میں 13 جولائی کو منائی جانے والی سرکاری تعطیل بھی ختم کر دی ہے۔ اس کے برعکس 26 اکتوبر کو 'یومِ الحاق' کے موقعے پر سرکاری تعطیل منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 1947 میں اسی دن مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت کے ساتھ مشروط الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔

تاہم، حکومت نے ریاست کے جموں خطے کی مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے اس مطالبے کو نہیں مانا ہے کہ 23 ستمبر کو جو مہاراجہ ہری سنگھ کا یومِ پیدائش ہے عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ بھارت کی حکمران بی جے پی اور ہم خیال تنظیمیں اس مطالبے کی تائید کرتی آئی ہیں۔ڈوگرہ مہاراجوں کا تعلق جموں سے تھا۔

کشمیریوں کی نفسیات پر وار؟

13 جولائی کی چھٹی کو منسوخ کرنے کے حکومت کے فیصلے پر کشمیریوں نے شدید ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے ان کی تاریخ پر شب خون مارنے اور ان کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچانے کی ایک اور دانستہ کوشش قرار دیدیا تھا جبکہ نیشنل کانفرنس، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اور دوسری مقامی سیاسی جماعتوں نے اسے ریاست کی سیاسی تاریخ کی توہین جتلایا تھا۔

نیشنل کانفرنس نے شیخ عبداللہ کے یومِ پیدائش پر تعطیل کو منسوخ کرنے کے بعد اب ان کی یاد میں دیے جانے والے سرکاری اعزازات کے نام بدلنے کے حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ جموں و کشمیر کے عوام کی نفسیات پر وار ہے۔ پارٹی کے ایک لیڈر اور سابق ہائی کورٹ جج جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا "حکومت اور اس سے جڑے لوگ کشمیریوں کی بے عزتی کرنا چاہتے ہیں۔ یہ 5 اگست کو لیے گیے فیصلوں کے تسلسل میں اٹھائے گئے اقدامات ہیں۔"

نیشنل کانفرنس کے ایک اور لیڈر اور سابق ممبر اسمبلی پیر آفاق احمد نے کہا "بھارتی حکومت انتقام کو انتہا تک لے جانا چاہتی ہے اور ایسا کرکے وہ تاریخ کو مسخ بھی کرتی جا رہی ہے۔ شیر کشمیر اعزارات کے نام بدلنا ایک ایسی دانستہ کوشش کا حصہ ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر کی سیاسی انفرادیت کی ہر علامت کو چھیلنا ہے۔ بھارت کی موجودہ سرکار کئی طرح کے تعصبات کا شکار ہے اور اُن خیالات، اصولوں اور نصب العین کی بیخ کُنی کرنے پر تُلی نظر آرہی ہے جو ملک کے آئین کی بنیاد ہیں"۔

انہوں نے مزید کہا "موجودہ حکمرانوں کو ایک ایسے عوامی لیڈر سے ڈر لگ رہا ہے جو اس دنیا کو تین دہائی پہلے چھوڑ چکے ہیں"۔

شیخ عبداللہ پر مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

تاہم، بی جے پی کے ایک سرکردہ راہنما اور سابق نائب وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر نرمل سنگھ نے حکومت کے فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اسے ان مختلف سرکاری عمارتوں اور اداروں کے نام بھی بدلنے چاہیں جو شیخ عبداللہ سے منسوب ہیں، کیونکہ انہوں نے ماضی میں فرقہ ورانہ تفریق پیدا کی"۔ نرمل سنگھ نے دعویٰ کیا کہ شیخ عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کے جھنڈے کو جموں و کشمیر کا ریاستی پرچم بنایا تھا اور یہ کہ انہوں نے ملک (بھارت) کی جنگِ آزادی میں کوئی قابلِ ذکر کردار ادا نہیں کیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا "میں ایک قدم آگے بڑھونگا اور کہنا چاہوں گا کہ جموں میں اُن کی کوئی عوامی ساکھ نہیں تھی اس لیے یونیورسٹیوں اور دوسری تعمیرات کو ان کے نام پر رکھنے کے فیصلوں پر نظر ثانی ہونی چاہیے"۔

5 اگست 2019 کو بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کو آئینِ ہند کی دفعہ 370 کے تحت حاصل نیم خودمختاری کو ختم اور ریاست کو دو حصوں میں تقسیم کرکے براہِ راست وفاق کے کنٹرول والے علاقے بنایا تھا۔ ان فیصلوں پر 31 اکتوبر 2019 سے عملدرآمد ہوا اور اس کے ساتھ ہی ریاست کے آئین اور تعزیراتی قانون کو منسوخ اور جھنڈے کو ختم کیا گیا۔

5 اگست 2019 کو جن کشمیری لیڈروں کو قید کیا گیا ان میں شیخ عبداللہ کا بڑا بیٹا اور سیاسی جانشین ڈاکٹر فاروق عبد اللہ اور پوتا عمر عبد اللہ بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں بھی ریاست کے وزیرِ اعلیٰ رہ چکے ہیں اور اس وقت نیشنل کانفرنس کے بالترتیب صدر اور نائب صدر ہیں۔

ہندو، مسلم، سکھ اتحاد کا نعرہ

نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے نرمل سنگھ کے ریمارکس پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا "اُن کی بے علمی پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ یہ شیخ صاحب ہی تھے جنہوں نے جموں و کشمیر میں ایک ایسے موقعے پر 'ہندو، مسلم، سکھ اتحاد کا نعرہ دیا تھا جب پورا متحدہ ہندوستان فرقہ ورانہ فسادات اور مذہنی منافرت کی آگ میں جھلس رہا تھا۔ کیا وہ یہ بھی نہیں جانتے کہ شیخ صاحب نے دو قومی نظریے کو مسترد کرتے ہوئے سیکولر بھارت سے ناطہ جوڑا تھا"۔

ڈاکٹر عبد الاحد اسے "نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم 'والا معاملہ قرار دیتے ہیں۔" انہوں نے کہا شیخ صاحب نے قائد اعظم محمد علی جناح کے وسیع تجربے کی بنیاد پر دیے گیے اس مشورے کو نہیں مانا کہ انہیں کانگریس کے لیڈروں پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیے۔ اب تو ہندوستان میں ایک نئی ہوا چلی ہے اور پھر تاریخ کی مار سب سے بری مار ہوتی ہے۔"

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG