رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی: پولیس افسر کی گاڑی پر حملہ، 2 افراد ہلاک


دھماکا مقامی وقت کے مطابق، نو بج کر 10منٹ پر ہوا، جبکہ اس سے کچھ ہی لمحے پہلے نامعلوم افراد دھماکے کے مقام پر ایک موٹر گاڑی کھڑی کرکے فرار ہوگئے، جس میں دھماکہ خیز مواد نصب تھا

کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز فور میں سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فاروق اعوان کی گاڑی کے قریب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ تاہم، فاروق اعوان حملے میں محفوظ رہے۔ البتہ، انہیں معمولی زخم آئے ہیں۔

مقامی میڈیا رپورٹس میں ابتدائی تفتیش اور اعلیٰ پولیس افسران جن میں سی آئی ڈی سربراہ راجہ عمر خطاب اور ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام قادر تھیبو کا نام بھی شامل ہے، ان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ واقعے کی ذمے داری ’جنداللہ‘ نامی ایک تنظیم نے قبول کرلی ہے۔

دھماکا مقامی وقت کے مطابق نو بج کر 10منٹ پر ہوا، جبکہ اس سے کچھ ہی لمحے قبل نامعلوم افراد دھماکے کے مقام پر ایک سوزوکی گاڑی کھڑی کرکے فرار ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس گاڑی میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق، جیسے ہی فاروق اعوان اس کے قریب پہنچے، دھماکا خیز مواد کو ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا گیا۔

فاروق اعوان کی گاڑی بم پروف تھی اور وہ خود گاڑی ڈرائیور کر رہے تھے، جبکہ دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی ان کے بائیں طرف زوردار دھماکے سے پھٹی جس سے وہ بڑے حادثے سے محفوظ رہے۔ انہیں معمولی زخم آئے ہیں۔ تاہم، دھماکے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک ہوگئے جو راہ گیر بتائے جاتے ہیں۔

زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ فاروق اعوان زخمی ہونے کے باوجود خود چل کر اسپتال پہنچے۔ جناح اسپتال کی انتظامیہ نے دھماکے میں دو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

دھماکے کے وقت فاروق اعوان ڈیفنس میں واقع اپنے دفتر سے رہائش گاہ گزری جا رہے تھے۔ دھماکا اس قدر زوردار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔

اس دھماکے سے ایک کار اور پولیس موبائل کو شدید نقصان پہنچا۔ جائے وقوع پر 10 سے 15 فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا ہے۔

میڈیکل سپرنٹنڈنٹ، جناح اسپتال، ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق اسپتال میں 7 زخمی لائے گئے، جن میں سے دو افراد دوران علاج ہی ہلاک ہوگئے۔ دیگر زخمیوں میں دو خواتین بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG