رسائی کے لنکس

logo-print

تائیوان کو امریکی لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی منظوری


(فائل فوٹو)

امریکی محکمہ خارجہ نے 8 ارب ڈالر کے ایف سولہ طیاروں کی تائیوان کو ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔

امریکہ کی ڈیفنس سیکورٹی کوآپریشن ایجنسی نے اس معاہدے سے متعلق کانگریس کو بذریعہ نوٹی فیکیشن آگاہ کیا، جس میں بتایا گیا ہے کہ تائیوان کو 66 لڑاکا طیاروں سمیت 75 جنرل الیکٹرک انجن اور دیگر نظام دینے کا معاہدہ ہے۔

نوٹی فیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ تائیوان سے معاہدہ امریکی مفاد میں ہے جو تائیوان کی دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

امریکہ اور تائیوان کے درمیان لڑاکا طیاروں کے ممکنہ معاہدے کی خبریں سامنے آنے پر چین کی جانب سے پہلے ہی مذمتی بیانات سامنے آ چکے ہیں۔

چین نے خبردار کیا تھا کہ وہ 'جوابی کارروائی' کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ چین تائیوان کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے جب کہ امریکہ کے براہ راست تائیوان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ تاہم، وہ امریکہ کے اسلحے کا خریدار رہا ہے۔

امریکہ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے چیئرمین جم رش نے تائیوان کو لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کے تیار کردہ ایف سولہ طیاروں کے مجوزہ معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تائیوان پر چین کی جانب سے خاصا دباؤ ہے اور ایف سولہ طیارے تائیوان کی خود مختار فضائی حدود کے دفاع کی صلاحیت کو مضبوط کریں گے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اس حوالے سے پیر کو مقامی چینل 'فاکس نیوز' سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور تائیوان کے درمیان لڑاکا طیاروں کے معاہدے کے بارے میں گزشتہ ہفتے کانگریس کو آگاہ کر دیا تھا۔

دوسری جانب، تائیوان کی صدر تسائی انگ وین کا کہنا ہے کہ ایف سولہ طیاروں کا حصول تائیوان کو نئی ایئر فورس بنانے میں مدد دے گا اور اس سے دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ ہو گا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG