رسائی کے لنکس

logo-print

کم جونگ ان کے دورۂ چین کی تصدیق، چینی صدر سے ملاقات


چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ویڈیو سے لی گئی تصویر جس میں دونوں رہنما مصافحہ کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کم جونگ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ ری سول جو کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام بھی اتوار کو بیجنگ آئے تھے جہاں وہ بدھ تک مقیم رہے۔

چین اور شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے تصدیق کی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے رواں ہفتے چین کا دورہ کیا تھا۔

اپنے والد کم جونگ اِل کی جگہ 2011ء میں اقتدار سنبھالنے والے کم جونگ ان کا یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔

اطلاعات کے مطابق کم جونگ ان کے ہمراہ ان کی اہلیہ ری سول جو کے علاوہ دیگر اعلیٰ حکام بھی اتوار کو بیجنگ آئے تھے جہاں وہ بدھ تک مقیم رہے۔

چینی حکومت کے مطابق کم جونگ ان کا بیجنگ کا یہ دورہ غیر سرکاری تھا۔ لیکن اطلاعات کے مطابق اس غیر سرکاری دورے کے دوران بھی شمالی کوریا کے حکمران کو سرکاری دوروں پر آنے والے سربراہانِ مملکت کی طرح پورا پروٹوکول، گارڈ آف آنر اور بیجنگ کے 'گریٹ ہال' میں استقبالیہ دیا گیا۔

اس دورے کے دوران کم جونگ ان نے چین کے صدر ژی جن پنگ سے بھی ملاقات کی جس کی ویڈیو چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ژنہوا' نے جاری کی ہے۔

چین کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے بدھ کو جاری کیے جانے والے ایک طویل بیان میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران شمالی کوریا کے سربراہ نے چین کے صدر کو یقین دلایا کہ جزیرہ نما کوریا میں صورتِ حال بتدریج بہتر ہورہی ہے کیوں کہ ان کے بقول شمالی کوریا نے کشیدگی کم کرنے اور امن مذاکرات شروع کرنے کی جانب پہلا قدم اٹھایا ہے۔

بیان کے مطابق چینی صدر سے ملاقات میں کم جونگ ان نے کہا کہ وہ اپنے والد اور دادا کی خواہشات کے عین مطابق جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم پر قائم ہیں۔

کم جونگ ان کے دادا کم ال سنگ شمالی کوریا کے بانی تھے جو 1948ء سے 1994ء میں اپنی وفات تک ملک کے حکمران رہے تھے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے کم جونگ اِل نے اقتدار سنبھالا تھا جو ان کی وفات کے بعد 2011ء میں ان کے بیٹے کم جونگ ان کو منتقل ہوگیا تھا۔

اپنے دورِ اقتدار میں کم ال سنگ اور کم جونگ ال دونوں کا موقف تھا کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا نہیں چاہتے لیکن ان کی حکومتوں کے دوران شمالی کوریا خفیہ طور پر ایٹم بم کی تیاری میں مصروف تھا جس میں کامیاب ہونے پر 2006ء میں اس نے پہلا جوہری تجربہ کیا تھا۔

چینی وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق صدر ژی جن پنگ سے ملاقات میں کم جونگ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر امریکہ اور جنوبی کوریا ان کے ملک کی جانب سے کی جانے والی خیر سگالی کی کوششوں کا مثبت جواب دیں اور امن کے حصول کے لیے بتدریج اقدامات کریں تو جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کا ہدف حاصل کیا جاسکتا ہے۔

کم جونگ ان کے دورۂ چین سے متعلق قیاس آرائیاں پیر کو اس وقت شروع ہوئی تھیں جب جاپان کے ایک ٹی وی چینل نے بیجنگ کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ایک ٹرین کی ویڈیو نشر کی تھی۔

جاپان کے 'این ٹی وی نیٹ ورک' نے دعویٰ کیا تھا کہ سبز اور زرد رنگ کی یہ ٹرین اس ٹرین سے بہت ملتی جلتی ہے جس کے ذریعے کم جونگ ان کے والد کم جونگ اِل 2011ء میں بیجنگ آئے تھے۔

چین کی سوشل میڈیا ویب سائٹ پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز میں ٹرین کے بیجنگ اسٹیشن پہنچنے کے بعد اسٹیشن سے ایک بڑے قافلے کو روانہ ہوتے اور بیجنگ کی ایک مرکزی شاہراہ پر گاڑیوں کے ایک قافلے کو انتہائی سخت سکیورٹی میں جاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

جاپانی ٹی وی کی خبر اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی ویڈیوز کے بعد کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے کم جونگ ان کے بیجنگ پہنچنے کا دعویٰ کیا تھا تاہم چین اور شمالی کوریا، دونوں ملکوں کے حکام نے اس خبر کی تصدیق یا تردید نہیں کی تھی۔

تاہم بدھ کو علی الصباح دونوں ملکوں کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے شمالی کوریا کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورۂ چین کی تصدیق کردی۔

کم جونگ ان نے چین کا حالیہ دورہ جنوبی کوریا اور امریکہ کے صدور کے ساتھ ہونے والی اپنی متوقع ملاقاتوں سے قبل کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس دورے کا مقصد شمالی کوریا کے قریب ترین اتحادی چین کی قیادت کو ان متوقع ملاقاتوں پر اعتماد میں لینا ہوسکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات رواں سال مئی میں متوقع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG