رسائی کے لنکس

logo-print

اسٹیٹ آف دا یونین: کیا حقیقت اوباما کی خواہش کے مطابق ہے؟


صدر اوباما نے اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا، لیکن جن چیزوں پر انہوں نے زیادہ بات نہیں کی، وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے معاملات تھے: لیسا کرٹس

صدر براک اوباما نے اپنے اسٹیٹ آف دا یونین خطاب میں امریکی کانگریس سے دولت اسلامیہ سے مقابلے کے لئے فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت طلب کرنے کے ساتھ پشاور سے پیرس تک دہشت گردوں کا تعاقب جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

انہوں نے عراق اور افغانستان سے امریکی افواج کی واپسی، افغانستان میں نئی حکومت کے قیام اور امریکی فوج کو غیر ضروری جنگوں میں الجھانے کے بجائے اپنے اتحادیوں کا تعاون حاصل کرنے کو اپنی خارجہ پالیسی کی کامیابی قرار دیا۔ جسے ان کے حامی اور مخالف الگ الگ انداز سے دیکھ رہے ہیں۔

واشنگٹن کے تھنک ٹینک 'ہیریٹیج فاؤنڈیشن' کی لیسا کرٹس کہتی ہیں کہ صدر اوباما نے اپنی معاشی پالیسیوں کی کامیابیوں کا تذکرہ کیا، لیکن جن چیزوں پر انہوں نے زیادہ بات نہیں کی، وہ دہشت گردی پر قابو پانے کے معاملات تھے۔ وہ دہشت گردی، جس کا خطرہ امریکہ کو اب بھی ہے۔

لیسا کرٹس کے بقول صدر اوباما نے افغانستان کے بارے میں زیادہ بات نہیں کی۔ انہو ں نے کہا کہ جنگی کارروائیاں ختم ہو گئی ہیں۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ آئندہ کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ انخلاء کی ٹائم لائن اور کتنی فوج افغانستان میں رکھی جائے گی؟ اس بارے میں بات نہیں کی کہ امریکہ ISIS یا داعش کا مقابلہ کیسے کرے گا؟

لیسا کرٹس نے کہا کہ صدر اوباما کی جانب سے ان ساری باتوں کو نظر انداز کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں ایک ایسے صدر کے طور پر جانا جائے، جس نے دو جنگیں ختم کی ہیں۔ لیکن ہمیں اب بھی طالبان حملوں کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ابھی افغانستان اور عراق میں کام ختم نہیں ہوا۔ بدقسمتی سے یہ حقیقت صدر اوباما کی خواہش کے مطابق نہیں ہے۔

واشنگٹن کے ایک اور تھنک ٹینک 'یو ایس انسٹی ٹیوٹ آف پیس' سے منسلک تجزیہ کار معید یوسف کہتے ہیں کہ واشنگٹن میں اب پاکستان کا تذکرہ اتنا ہی ہوا کرے گا جتنا کہ اس تقریر میں ہوا، کیونکہ خطے میں امریکہ کی ترجیحات تبدیل ہو رہی ہیں۔ پاکستان امریکہ کے لئے کتنی اہمیت رکھتا ہے، اس کا اندازہ جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورے سے لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن اب پاکستان کے بارے میں بات چیت اس طرح نہیں ہوگی، جیسے پہلے ہوتی تھی۔ یہی واشنگٹن کا نیا معمول ہوگا۔

صدر اوباما دوسری مدت کے لئے اپنے عہدے کی میعاد مکمل کرنے سے تقریبا ایک سال گیارہ مہینے کے فاصلے پر ہیں۔ وہ نومبر 2016ء میں امریکہ کے آئندہ صدارتی انتخاب میں امیدوار نہیں ہونگے۔ یہی وجہ ہے کہ تجزیہ کاروں کی رائے میں انہوں نے اسٹیٹ آف دا یونین خطاب میں اپنے باقی ماندہ خارجہ چیلنجز کے بجائے امریکی معیشت کی کامیابیوں کا تذکرہ کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔

XS
SM
MD
LG