رسائی کے لنکس

logo-print

بھارت: ویران سڑکوں پر خوراک کے متلاشی جانوروں کا راج


کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث دنیا بھر میں جزوی لاک ڈاؤن ہے۔ کروڑوں لوگ گھروں تک محدود ہیں۔ ایسے میں جہاں ماحولیاتی آلودگی میں کمی آئی ہے۔ وہیں بھارت کی ویران سڑکوں پر بندروں، کتوں اور دیگر جانوروں کا راج ہے۔

بندر، آوارہ کتے اور دیگر جانور دارالحکومت نئی دہلی، ممبئی، کولکتہ اور دیگر شہروں کی ویران سڑکوں کا فائدہ اُٹھا کر کھلے عام مٹر گشت کرتے نظر آتے ہیں۔

کرونا وائرس کے باعث ان جانوروں کو بھی خوراک کے حصول سمیت دیگر مشکلات کا سامنا ہے۔ لیکن سنسان شاہراہوں اور پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کے ارد گرد یہ جانور بلا روک ٹوک گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق بندروں کے غول نئی دہلی میں بھارتی صدر کی رہائش گاہ، پارلیمنٹ اور وزرا کی رہائش گاہوں کے قریب منڈلاتے نظر آتے ہیں۔

کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور لاک ڈاؤن کے باعث ماحولیاتی آلودگی میں بھی خاطر خواہ کمی آئی ہے۔ مختلف شہر جو ماحولیاتی آلودگی کے انڈیکس میں سرفہرست تھے۔ اب وہاں یہ انڈیکس خطرے کے نشان سے کہیں پیچھے ہے۔

بھارت کی ہمالیائی ریاست سکم کے علاقے گینگ ٹوک میں ایک کالا ریچھ بھی موقع کا فائدہ اٹھا کر آبادی میں گھس آیا۔ جہاں ایک مقامی ٹیلی فون ایکسچینج میں گھس کر اس نے ایک انجینئر کو بھی زخمی کر دیا۔

بھارت کے محکمہ جنگلات کی جانب سے ایسی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہیں۔ جس میں ہاتھی خالی سڑکوں پر گشت کرتے نظر آ رہے ہیں۔

جانوروں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم 'لو اینڈ کیئر فار اینیمل' کی ترجمان شسمیتا رائے کا کہنا ہے کہ درجنوں سامان بردار جانوروں بشمول گھوڑے لاک ڈاؤن کے باعث اپنی مدد آپ کے تحت خوراک کے حصول میں کوشاں ہیں۔

ان جانوروں کے مالکان کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس اپنے خاندان کے افراد کو کھلانے کے لیے وسائل نہیں ان جانوروں کو کھانا کہاں سے کھلائیں۔

شسمیتا کہتی ہیں کہ خوراک کی کمی کے باعث ان جانوروں کے بیمار ہونے کا خدشہ ہے۔ اور اگر انہیں بروقت خوراک نہ ملی تو ان میں سے بہت سے ہلاک ہو جائیں گے۔

بعض شہری اپنی مدد آپ کے تحت ان جانوروں کی خوراک کا بندوبست کر رہے ہیں۔
بعض شہری اپنی مدد آپ کے تحت ان جانوروں کی خوراک کا بندوبست کر رہے ہیں۔

بھارت کے مختلف شہروں میں گائے، کتوں اور دیگر جانوروں کے غول خوراک کے حصول میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ عام طور پر ان کا ہدف ہوٹلوں کے باہر موجود کوڑے دان ہوتے ہیں۔ لیکن ریستوران بند ہونے سے اُنہیں خوراک کے حصول میں دشواری ہو رہی ہے۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم سماجی ورکر ادیتی بدم کا کہنا ہے کہ ان جانوروں کو شیلٹر ہومز میں رکھنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔

اُنہوں نے بھی ایک شیلٹر ہوم بنا رکھا ہے۔ لیکن وہ جانوروں کی اتنی بڑی تعداد کا خیال رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتے جا رہے ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے ہنگامی اقدامات کی ضرورت ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG