رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان کے مختلف شہروں میں 'طلبہ یکجہتی مارچ'


پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد، لاہور اور کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں طلبہ یونین کی بحالی کے لیے طالب علم 'یکجہتی مارچ' کر رہے ہیں۔

طلبہ یونین کی بحالی کے لیے بائیں بازو کے حامی طلبہ سڑکوں پر آئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے انقلاب اور طلبہ یونین بحال کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔

طلبہ یکجہتی مارچ کے لیے گزشتہ چند روز سے جامعہ پنجاب سمیت مختلف یونیورسٹیز کے طلبہ کی جانب سے تیاریاں کی جا رہی تھیں۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ملک بھر میں طلبہ یونین پر عائد پابندی اٹھائی جائے اور اُنہیں اظہار رائے کی آزادی دی جائے۔

وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے طلبہ یونین کی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ طلبہ یونین پر پابندی غیر جمہوری ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی طلبہ یونین کی حمایت میں اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سے طلبہ یونین کی حمایت کرتی آئی ہے۔ طلبہ آج یونینز کی بحالی اور حقِ تعلیم کے لیے نکلے ہیں۔

لاہور میں طلبہ یکجہتی مارچ میں مزدور یونینز اور پروگریسو لیبر فیڈریشن کے نمائندے بھی شریک ہوئے جب کہ طلبہ کو بائیں بازو کی جماعتوں کی بھی حمایت حاصل ہے۔

طلبہ سرخ انقلاب کے نعرے لگاتے رہے اور انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں نسلی تعصب کا رویہ ختم کرتے ہوئے طلبہ کو ڈرانا دھمکانا بند کیا جائے۔

کراچی کے ریگل چوک پر طلبہ کے مظاہرے میں سماجی شخصیات اور مزدور تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔

طلبہ نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر طلبہ یونین کی بحالی کے مطالبات درج تھے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں لاہور کے طلبہ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں طلبہ کو انقلاب اور سرخ انقلاب کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG