رسائی کے لنکس

1940ء میں ملنے والی ہڈیاں امیلیا ایئرہارٹ کی تھیں: تحقیق


امیلیا ایئر ہارٹ کی طیارے کے کاک پٹ میں لی گئی ایک تصویر

سنہ 1940 میں بحرالکاہل میں واقع جزیرے نیکو مارورو کے ساحل سے انسانی ہڈیاں ملی تھیں جن کے بارے میں کئی ماہرین کا خیال رہا ہے کہ وہ امیلیا ایئر ہارٹ کی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ 1940ء میں بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے ملنے والی انسانی ہڈیاں قوی امکان ہے کہ معروف خاتون پائلٹ امیلیا ایئر ہارٹ ہی کی تھیں۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف ٹینے سی سے منسلک ماہرِ عمرانیات رچرڈ جانٹز کا کہنا ہے کہ حال ہی میں کی جانے والی تحقیق اور بعض دیگر شواہد سے اس امکان کو تقویت ملی ہے کہ لگ بھگ 80 سال قبل ملنے والی ہڈیاں امیلیا ہی کی تھیں۔

امیلا ایئر ہارٹ ایک معروف امریکی مہم جو اور خاتون پائلٹ تھیں جنہوں نے 1928ء میں بحرِ اوقیانوس کے اوپر تنِ تنہا اور بغیر رکے پرواز کرنے والی دنیا کی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

امیلیا کا طیارہ 1937ء میں دنیا کے گرد چکر لگانے کی ایک مہم کے دوران لاپتا ہوگیا تھا اور ان کی اور ان کے راہ نما (نیوی گیٹر) کی گمشدگی گزشتہ کئی دہائیوں سے ایک معمہ اور عوامی دلچسپی کا موضوع رہی ہے۔

سنہ 1940 میں بحرالکاہل میں واقع جزیرے نیکو مارورو کے ساحل سے انسانی ہڈیاں ملی تھیں جن کے بارے میں کئی ماہرین کا خیال رہا ہے کہ وہ امیلیا ایئر ہارٹ کی تھیں۔

یہ ہڈیاں بھی اب گم ہوچکی ہیں لیکن ان میں سے بعض ہڈیوں کی پیمائش ریکارڈ میں محفوظ رہ گئی تھی جس کی بنیاد پر پہلے پہل ایک سائنس دان نے 1941ء میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ یہ ہڈیاں کسی مرد کی ہیں۔

سنہ 1998ء میں رچرڈ جینٹز اور ان کے ساتھی سائنس دان نے تحقیق کے بعد یہ امکان ظاہر کیا تھا کہ یہ ہڈیاں کسی ایسی خاتون کی ہوسکتی ہیں جس کے آباؤ اجداد کا تعلق یورپ سے تھا۔

جینٹز نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا تھا کہ ہڈیوں کی دستیاب پیمائش سے پتا چلتا ہے کہ اس خاتون کا قد بھی امیلیا ایئر ہارٹ جتنا ہی تھا جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ یہ ہڈیاں لاپتا خاتون پائلٹ ہی کی تھیں۔

تاہم 2015ء میں کی جانے والی ایک اور تحقیق سے منسلک ماہرین نے کہا تھا کہ ہڈیاں کسی مرد کے ہونے سے متعلق 1941ء میں کیا جانے والا دعویٰ ہی درست تھا۔

تاہم رچرڈ جینٹز کی ہی ایک نئی تحقیق سے بظاہر یہ دعویٰ رد ہوتا نظر آرہا ہے اور یہ امکان دوبارہ روشن ہوا ہے کہ ہڈیاں امیلیا ہی کی ہیں۔

رچرڈ نے جمعرات کو امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' سے گفتگو میں بتایا کہ انہوں نے اپنی نئی تحقیق کے لیے امیلیا ایئر ہارٹ کے استعمال شدہ پاجامے کا ناپ لے کر اس کا تقابل ہڈیوں کی پیمائش سے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پیمائش کے لیے انہوں نے امیلیا کی ایک مشہور تصویر سے بھی مدد لی جس میں وہ جہاز کے پاس تیل کا کنستر اٹھائے کھڑی ہیں۔

رچرڈ کے بقول پیمائش کے اس تقابل سے صاف صاف ظاہر ہوا ہے کہ ملنے والی ہڈیوں کی لمبائی اور چوڑائی امیلیا کے قد کے عین مطابق تھی۔

رچرڈ نے بتایا کہ جزیرے سے بعض دیگر ایسی اشیا بھی ملی تھیں جن سے لگتا ہے کہ امیلیا کا طیارہ کہیں قریب ہی گر کر تباہ ہوا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG