رسائی کے لنکس

سال 2020 کے مقبول ترین پاکستانی فن کار


نیا سال تو شروع ہو گیا لیکن کچھ اداکار 2020 کو ایسا یادگار بنا گئے کہ ان کے مداح بھلانا چاہیں بھی تو نہیں بھول پائیں گے۔ ان میں سے کچھ نے اداکاری کے ایسے جوہر دکھائے کہ سب ان کے گرویدہ ہو گئے اور کچھ نے ایک سے زیادہ ڈراموں میں ایسا کام کیا کہ سال 2020 کے بہترین فن کاروں میں شامل ہوئے۔

آئیے ایسے ہی کچھ اداکاروں اور ان کی 2020 کی یاد رہ جانے والی کارکردگی پر نظر ڈالتے ہیں:

فیصل قریشی

اداکار فیصل قریشی کی ٹی وی پر 2020 میں واپسی دھواں دار رہی۔ انہوں نے 2019 کا زیادہ تر حصہ انگریزی فلم 'دی ونڈو' اور اپنی ذاتی فلم 'سوری' کے لیے وقف کیا تھا۔ لیکن 2020 میں انہوں نے ایک نہیں دو بڑے ڈراموں میں کام کرکے سب کو خوش گوار حیرت سے دوچار کیا۔

جیو ٹی وی کے ڈرامے 'مقدر' کا وڈیرا ہو یا اے آر وائی ڈیجیٹل کا 'لوگ کیا کہیں گے،' دونوں ڈراموں میں ان کی اداکاری کو لوگوں نے خوب سراہا۔ جہاں 'مقدر' میں وہ ایک آر جے سے زبردستی شادی کر کے اسے اپنی بیوی بنالیتے ہیں وہیں 'لوگ کیا کہیں گے' میں وہ اپنے مرحوم دوست کے خاندان کو اپنی کفالت میں لے لیتے ہیں۔

احد رضا میر

سال 2020 میں نوجوان اداکار احد رضا میر کے دو ڈرامے ٹی وی کی زینت بنے جن میں ہم ٹی وی کا 'عہدِ وفا' اور 'یہ دل میرا' شامل ہیں۔

'عہدِ وفا' میں انہوں نے آرمی افسر کا کردار ادا کیا جو اپنے دوستوں کے ساتھ کالج کے دنوں میں خوب موج مستی کرتا ہے لیکن فوج میں جانے کے بعد ملک کا سچا سپاہی بن جاتا ہے۔

اس کردار کو نبھانے کے لیے انہوں نے نہ صرف فوجی جوانوں کے ساتھ ٹریننگ کی بلکہ اس رول میں وہ خوب جچے بھی۔

'یہ دل میرا' میں احد نے ایک ایسے نوجوان کا کردار ادا کیا تھا جو اپنے والدین کی موت کا بدلہ لینے کے لیے ان کے قاتل کی بیٹی سے شادی کرلیتا ہے اور پھر دونوں باپ بیٹی سے بدلہ لیتا ہے۔

دونوں کرداروں میں ان کی اداکاری قابلِ تعریف تھی۔ وہ دل کھول کر ہنسے بھی اور روئے بھی، ہنسایا بھی، رلایا بھی۔

سمیع خان

سال 2019 میں صرف دو ڈراموں میں کام کرنے والے سمیع خان 'عشق زہے نصیب' کے بعد چھوٹی اسکرین سے اس لیے غائب تھے کیوں کہ وہ 'گم'، 'رانگ نمبر ٹو'، 'کاف کنگنا' اور 'دی ونڈو' کی شوٹنگ میں مصروف تھے۔ لیکن 2020 میں پہلے 'سراب' اور پھر 'دلہن' میں کام کرکے انہوں نے اپنے مداحوں کو حیران کردیا۔

ہم ٹی وی کے 'سراب' میں انہوں نے ایک ایسے لڑکے کا کردار ادا کیا ہے جو اپنی فرسٹ کزن سے محبت کرتا ہے اور جب اسے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ذہنی بیماری کا شکار ہے، تو سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اسے اپنانے میں پہل کرتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس کی بیوی اصل اسفندیار کے ساتھ ساتھ ایک خیالی اسفندیار کو بھی دیکھتی ہے جو اس سے وہی باتیں کہتا ہے جو وہ سننا چاہتی ہے۔ ایک ہی کردار میں دو مختلف قسم کے تاثرات دینے کے اعتبار سے یہ سمیع خان کا اب تک سب سے مشکل رول قرار دیا جا سکتا ہے۔

ہم ٹی وی ہی کے 'دلہن' میں ان کا کردار منفی بھی ہے اور مثبت بھی۔ وہ اپنے دوست کی گاڑی حاصل کرنے کے لیے ایک لڑکی سے نکاح کرتا ہے اور پہلی رات ہی گاڑی لے کر فرار ہو جاتا ہے۔ بعد میں جب اسے اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے تو اسے شرمندگی ہوتی ہے لیکن مزید بدنامی سے بچنے کے لیے وہ چپ رہتا ہے یہاں تک کہ وہی لڑکی اس کی والدہ کی بوتیک میں کام کرنے آ جاتی ہے۔

عمران اشرف

سال 2018 میں بھولا، 2019 میں ریحان چوہدری اور 2020 میں آدم کے لازوال کردار ادا کرنے والے عمران اشرف کے لیے گزشتہ 12 مہینے بہترین رہے۔ انہوں نے اپنے کریئر کا پہلا لکس اسٹائل ایوارڈ بھی جیتا اور سال کا اختتام ہم ٹی وی کے 'رقصِ بسمل' سے کیا۔

ان کا واحد ڈرامہ جو اس سال آن ایئر ہوا وہ ہم ٹی وی کا 'مشک 'تھا جسے نہ صرف انہوں نے تحریر کیا بلکہ اس میں مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ ڈرامے کے آغاز میں ان کا کردار زیادہ نظر نہیں آتا لیکن آخر تک ہر جگہ آدم ہی آدم ہوتا ہے۔ نہ اس کردار میں بھولا جیسی معصومیت ہے، نہ ریحان چوہدری جیسی خباثت اور موسیٰ کی بہادری۔ پھر بھی اس نے شائقین کے دل جیت لیے۔ نہ صرف اداکاری کے میدان میں انہوں نے کمال کیا بلکہ مکالموں نے بھی پی ٹی وی کے کلاسک دور کی یاد دلادی۔

حمزہ علی عباسی

گزشتہ چند برسوں کی طرح 2020 میں بھی حمزہ علی عباسی نے اداکاری سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی۔ لیکن جیو انٹرٹینمنٹ پر 'الف' نشر ہونے کے بعد چند لوگوں نے اسے ایک پبلسٹی اسٹنٹ کہا اور کسی نے اسے واقعی ریٹائرمنٹ قرار دیا۔ لیکن 2020 ختم ہونے تک وہ یہ ریٹائرمنٹ واپس لے چکے تھے۔

'الف' میں انہوں نے ایک ایسے لڑکے کا کردارادا کیا جس کا دادا اور والد خود کو دنیا سے الگ کرلیتے ہیں اور جب دادا اپنے پوتے کو فلمی دنیا ترک کرنے کا کہتے ہیں تو وہ بھی یہی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔

ڈرامے میں ان کی اداکاری کو سب نے ہی پسند کیا اور ان کی وقتی ریٹائرمنٹ سے اسے فائدہ بھی ہوا۔

بلال عباس

2019 میں 'چیخ' اور 2020 میں 'ڈنک' کے ذریعے لوگوں کا دل جیتنے والے بلال عباس نے ہم ٹی وی کے ڈرامے 'پیار کے صدقے' میں ایک ایسے لڑکے کا کردار کیا جو اپنے سوتیلے باپ سے اتنا ڈرتا ہے کہ سارا اعتماد کھو بیٹھتا ہے۔ لیکن اپنے منشی کی بیٹی کی شادی ٹوٹتی دیکھ کر وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ اس لڑکی سے شادی کرے گا۔ لیکن اسے کیا پتہ تھا کہ اسی لڑکی کے لیے اس کا سوتیلا باپ پہلے ہی اپنا رشتہ دے چکا ہے۔

بلال عباس نے اس رول میں کمال کیا ہے۔ اس میں وہ معصوم بھی نظر آئے ہیں اور ڈرپوک بھی۔ لیکن ماں کا اعتماد ملنے کے بعد وہ اپنے سوتیلے باپ کو خوب مزہ چکھاتے ہیں۔

سجل علی

سال 2020 احد رضا میر اور سجل علی کی شادی کا سال رہا۔ 2020 میں انہوں نے دو بلاک بسٹر ڈراموں میں کام کیا۔ ہم ٹی وی کے 'یہ دل میرا' میں انہوں نے ایک ایسی لڑکی کا کردار نبھایا جس کے باپ نے اس کے شوہر کے والدین کو بے دردی سے قتل کیا۔ ہم ٹی وی کے اس ڈرامے میں ان کی اداکاری کو سب نے پسند کیا۔

ساتھ ہی ساتھ جیو انٹرٹینمنٹ پر ان کا ڈرامہ 'الف' بھی نشر ہوا جس میں انہوں نے ایک فلمی اداکارہ کا کردار ادا کیا جو اپنے منہ چڑھے ہدایت کار کا اس وقت ساتھ دیتی ہے جب وہ عزت، شہرت اور پیسے کو چھوڑ کر دین کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔

سجل علی نہ صرف دونوں ڈراموں میں بالکل الگ نظر آئیں بلکہ ان کی اداکاری کو بھی خاصا سراہا گیا۔

یمنیٰ زیدی

سال 2020 میں یمنیٰ زیدی نے بھی دو ایسے ڈراموں میں کام کیا جو شائقین میں بے حد مقبول ہوئے۔ جیو انٹرٹینمنٹ کا 'رازِ الفت' ریٹنگز کے لحاظ سے 2020 کے کامیاب ترین ڈراموں میں سے ایک تھا جس میں انہوں نے ایک معصوم لڑکی کا کردار ادا کیا جس کے ساتھ اچھا کم اور برا زیادہ ہوتا ہے۔

ہم ٹی وی کے 'پیار کے صدقے' میں انہوں نے بلال عباس کے مقابل ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا جس کی عمر بڑی لیکن عقل بچگانہ تھی لیکن جب اس کے سوتیلے سسر کو اس سے پیار ہوتا ہے تو معاملہ بگڑ جاتا ہے۔

سونیا حسین

سونیا حسین کا شمار پاکستان کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں ہوتا ہے۔ سال 2020 میں انہوں نے ہم ٹی وی کے ڈرامے 'سراب' میں کام کر کے سب کو اپنا گرویدہ بنالیا۔

اس ڈرامے میں انہوں نے ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کیا ہے جو شیزوفرینیا کا شکار ہے اور جس کے گھر والے اسے محض ایک پاگل ہی سمجھتے ہیں۔ ان کی اداکاری میں وہ تمام چیزیں موجود تھیں جو ایک دماغی مریضہ کے اندر پائی جاتی ہیں: اچانک بیٹھے بیٹھے سن ہو جانا، کسی ایسے فرد سے بات کرنا جس کا کوئی وجود نہیں، اور دوائیں نہ کھانے پر اصرار۔ ان کی اداکاری سے کئی لوگوں کو اس بیماری کے بارے میں پتہ چلا۔

ان کا دوسرا ڈرامہ 'محبت تجھے الوداع' بھی ہم ٹی وی سے نشر ہوا جس کے آغاز میں لوگوں نے ان کی اداکاری پر تنقید کی لیکن بعد میں اسے سراہا بھی گیا۔

عروہ حسین، ماورہ حسین

کامیاب پراجیکٹس کے لحاظ سے 2020 حسین سسٹرز کے لیے بھی کم نہیں تھا۔ اگر عروہ حسین نے ہم ٹی وی کے 'مشک' کے ذریعے ٹی وی پر تین سال بعد کم بیک کیا تو ماورہ نے بھی اسی چینل کے ڈرامے 'ثبات' میں شان دار اداکاری کرکے تعریفیں سمیٹیں۔

'مشک' میں عروہ ایک ایسی لڑکی کا کردار ادا کر رہی ہیں جو لوگوں کو ٹھگتی ہے اور پولیس سے بچنے کے لیے ایک ایسی حویلی میں پناہ لے لیتی ہے جہاں کوئی اسے نہ ڈھونڈ سکے۔

اسی دوران انہیں اس گھر کی مالکن سے اتنی نفرت ہو جاتی ہے کہ وہ اس کی بیٹی کو گھر سے بھاگنے کا مشورہ دیتی ہے۔ لیکن اس کی واپسی پر خود اس کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔

دوسری جانب ماورہ حسین نے 'ثبات' میں ایک ایسی پڑھی لکھی باشعور لڑکی کا کردار ادا کیا جو اپنے حق کے لیے لڑنا جانتی ہے۔ ایک طرف اس کے گھر والے اس کی خوبیوں کی وجہ سے اس کے دیوانے ہیں تو دوسری جانب اس کے سسرال والوں کو اس کی یہی خوبیاں خامیاں لگتی ہیں۔

ان دو ڈراموں میں جہاں عروہ کی اداکاری فلمی ہے تو وہیں ماورہ کی اداکاری حقیقت سے قریب تر نظر آتی ہے۔

سارہ خان

ہم ٹی وی کے ڈرامے 'ثبات' میں جہاں ماورہ کا کردار پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا دکھایا گیا تھا وہیں سارہ خان نے اسی ڈرامے میں ایک بگڑی ہوئی امیرزادی مرال کا کردار ادا کیا جو ہرقیمت پر ہر چیز میں اپنی مرضی چاہتی ہے۔

اس کے بھائی نے کسی 'سڑک چھاپ' لڑکی سے شادی کیوں کی، ان کے والد نے اس لڑکی کو گھر میں جگہ کیوں دی اور اس کا بھائی اس لڑکی کو اپنی بہن پر فوقیت کیسے دے سکتا ہے، یہ سب کچھ مرال کے لیے کسی اذیت سے کم نہیں تھا۔ اسی لیے اس لڑکی کو شادی سے پہلے مارنے کے لیے اس نے ٹارگٹ کلر ڈھونڈا۔ پھر شادی کی رات اپنے بھائی کے کمرے کو آگ لگائی اور بات نہ ماننے پر اس کا لیپ ٹاپ توڑ دیا۔

سارہ خان جو اس سے قبل روتے دھوتے کردار زیادہ کرتی تھیں، اپنے اس رول کے بعد بجا طور پر ٹاپ اداکاراؤں میں شامل ہوگئی ہیں۔

ثنا جاوید

اور آخر میں بات اداکارہ ثنا جاوید کی، جن کا اے آر وائی ڈیجیٹل کا ڈرامہ 'رسوائی ' پورا سال موضوعِ بحث رہا۔ اس ڈرامے میں انہوں نے ایک ایسی لڑکی کا کردار کیا جس کے ساتھ زیادتی ہوچکی ہے اور وہ مجرموں کو سزا دلوانے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔ اس کے اس فیصلے پر اس کے گھر اور سسرال والے اس سے ناراض ہو جاتے ہیں لیکن وہ انصاف کی تلاش میں سب کچھ بھول کر کیس کو انجام تک پہنچاتی ہے اور آخر میں سرخرو ہوتی ہے۔

یہ ثنا جاوید کا 'خانی' اور 'ڈر خدا سے' کے بعد تیسرا بڑا ڈرامہ تھا جس میں انہوں نے عورتوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور اسی وجہ سے یہ ڈراما سال کے بہترین ڈراموں میں سے ایک ثابت ہوا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG